اسوہء انسانِ کامل — Page 424
اسوہ انسان کامل کرلیا۔( سیتمی ) 15 424 رسول کریم بحیثیت منصف اعظم دنیا میں اپنے تمام بدلے چکا دینے کے بعد بھی رسول اللہ یہ دعا کیا کرتے تھے۔اے اللہ میرے کسی ساتھی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو اسے اس شخص کے لئے رحمت و مغفرت کا ذریعہ بنادے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم نے یہ دعا کی کہ اے اللہ میں تجھ سے ایک پختہ وعدہ چاہتا ہوں۔میری التجا ہے کہ کبھی اس وعدہ کے خلاف نہ کرنا۔میں ایک انسان ہوں پس مومنوں میں سے جس کسی کو میں نے کوئی اذ بیت دی پی برا بھلا کہایا کوئی کوڑا مارا تو اسے قیامت کے دن اس شخص کیلئے دعا، برکت اور قربت کا ذریعہ بنا دینا۔(احمد )16 حرم بیت اللہ کی حرمت اور عدل وانصاف کا قیام احکام الہی کی حرمت کے ساتھ نبی کریم نے فتح مکہ کے موقع پر حرم کا احترام و تقدس بھی بحال کیا، جو آپ کی بعثت کا ایک اہم مقصد تھا۔فتح مکہ کے دوسرے دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک شخص کو حرم میں قتل کر دیا۔آپ اس پر سخت ناراض ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا ”اے لوگو ! یا درکھو اس حرم کی عزت کو کسی انسان نے نہیں خدا نے قائم کیا ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا نے اصحاب الفیل کے حملہ سے اپنے اس گھر کو بچایا تھا اور مسلمانوں کو اس پر مسلط کر دیا ہے۔کسی شخص کیلئے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے جائز نہیں کہ وہ اس میں خونریزی وغیرہ کرے۔یہ حرم مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔میرے لئے صرف اسی وقت اور اسی لمحے لوگوں پر خدا کے غضب کے سبب حلال ہوا ہے اور اب پھر اس کی حرمت بدستور برقرار رہے گی۔تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں وہ غیر حاضر لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔جو شخص تم سے کہے کہ اللہ کے رسول نے مکہ میں جنگ کی ہے تو یاد رکھو اللہ نے اسے اپنے رسول کے لئے حلال کر دیا تھا لیکن (اے بنی خزاعہ ) تمہارے لئے حلال نہیں کیا اور مجھے بھی صرف ایک گھڑی کیلئے یہ اجازت دی گئی تھی۔( بخاری ) 17 اسلامی حکومت کے قیام کے بعد رسول کریم نے عدل کی شاندار مثالیں قائم فرمائیں۔ایک دفعہ ایک مسلمان سے ایک ذمی قتل ہو گیا۔نبی کریم نے قصاص کے طور پر مسلمان کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں جو اس غیر مسلم کا حق دلواؤں اور اس کا عہد پورا کر کے دکھاؤں۔(ھدایہ ) 18 اس کے بعد آپ نے بنو خزاعہ کے قاتلوں کو قصاص دینے یا خون بہا قبول کرنے کا پابند کیا اور یوں عملاً عدل و انصاف کو قائم فرمایا۔فتح مکہ کے اس سفر کا واقعہ ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت فاطمہ نامی نے کچھ زیور وغیرہ چرا لئے۔اسلامی تعلیم کے مطابق چور کی سزا اس کے ہاتھ کاٹنا ہے۔عورت چونکہ معزز قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی اس لئے اس کے خاندان کو فکر ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ کے بہت پیارے اور عزیز ترین فردا سامہ بن زید سے حضور کی خدمت میں سفارش کروائی کہ اس