اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 423 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 423

423 اسوہ انسان کامل رسول کریم بحثیت منصف اعظم نہیں پہنا ہوا ، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قمیص اوپر اٹھایا۔اُسید بن حضیر آپ سے چمٹ گئے۔اور آپ کے جسم کے بوسے لینے لگے اور کہا یارسول اللہ میرا تو بس یہی مقصد تھا یعنی آپ سے برکت حاصل کرنے کیلئے یہ تدبیر میں نے سوچی تھی۔( ابوداؤد )13 حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کچھ مال تقسیم فرمارہے تھے۔ایک شخص آیا اور وہ مال کے اوپر جھک کر کھڑا ہو گیا۔رسول کریم نے کھجور کی ایک شاخ سے اس کو پیچھے ہٹایا تو اس کے منہ پر کچھ زخم سا آگیا۔حضور نے فرمایا آو بدلہ لے لو۔اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ میں نے معاف کیا۔(ابوداؤد )14 سورۃ نصر کے نزول کے بعد (جس میں رسول اللہ کی وفات کی طرف اشارہ ہے ) رسول اللہ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جسے سن کر لوگ بہت روئے۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سب کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کسی نے مجھ سے کوئی حق یا بدلہ لینا ہو تو قیامت سے پہلے آج یہیں لے سکتا ہے۔ایک بوڑھا شخص عکاشہ نامی کھڑا ہوا۔اور کہنے لگا میرے ماں باپ آپ پر قربان۔اگر آپ بار بار اللہ کی قسم دے کر یہ نہ فرماتے کہ بدلہ لے لوتو میں ہر گز آگے نہ بڑھتا۔میں فلاں غزوہ میں آپ کے ساتھ تھا۔میری اونٹنی حضور کی اونٹنی کے قریب آئی تو میں سواری سے اتر آیا تا کہ حضور کے قدم چوم لوں۔حضور نے چھڑی اٹھا کر جو ماری تو میرے پہلو میں لگی۔مجھے نہیں معلوم کہ حضور نے ارادتا مجھے ماری تھی یا اونٹنی کو؟ رسول اللہ نے فرمایا اللہ کے جلال کی قسم ! خدا کا رسول جان بوجھ کر تجھے نہیں مارسکتا۔پھر حضور نے بلال سے فرمایا کہ حضور کی وہی چھڑی گھر سے لے کر آئے۔حضرت بلال جا کر حضرت فاطمہ سے وہ چھڑی لے آئے۔رسول اللہ نے وہ چھڑی عکاشہ کو دی اور فرمایا کہ اپنا بدلہ لے لو۔اس پر حضرت ابوبکر اور عمر گکھڑے ہو گئے اور انہوں نے عکاشہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی بجائے ہم سے بدلہ لے لو۔حضور نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کو بٹھا دیا۔پھر حضرت علی کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ کی بجائے مجھ سے بدلہ لے لو۔نبی کریم نے انہیں بھی روک دیا۔پھر حضرت حسن اور حسین اٹھے۔انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ کے نواسے ہیں اور ہم سے بدلہ لینا بھی رسول اللہ سے بدلہ لینے کی طرح ہے۔نبی کریم نے انہیں بھی منع کر دیا اور عکاشہ سے کہا کہ تم بدلہ لے لو۔عکاشہ نے عرض کیا۔یارسول اللہ جب آپ کی چھڑی مجھے گی تو میرے بدن پر کپڑا نہ تھا۔حضور نے جسم سے کپڑا اٹھایا تو مسلمان دیوانہ وار رونے لگے۔وہ دل میں کہتے تھے کہ کیا عکاشہ ہمارے پیارے آقا کو چھڑی مارے گا؟ عکاشہ نے حضور کے جسم کو دیکھا تو لپک کر آگے بڑھا اور آپ کو چومنے لگا اور ساتھ کہتا جاتا تھا ” میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ سے بدلہ لینے کو کس کا دل گوارہ کر سکتا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا یا تو تمہیں بدلہ لینا ہوگا یا پھر معاف کرنا ہوگا۔‘ عکاشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہے میں نے معاف کیا۔اس امید پر کہ اللہ بھی قیامت کے دن مجھے معاف کرے۔نبی کریم نے فرمایا ”جو آدمی جنت میں میرے ساتھی کو دیکھنا پسند کرے وہ اس بوڑھے کو دیکھ لے۔“ پھر تو مسلمان عکاشہ کے ماتھے کو چومنے لگے اور اسے مبارکباد دے کر کہنے لگے کہ تم نے بہت بلند درجہ حاصل 66