اسوہء انسانِ کامل — Page 422
422 رسول کریم بحیثیت منصف اعظم اسوہ انسان کامل نہیں کرتا۔رسول اللہ نے عبد اللہ سے کہا کہ اس یہودی کا حق دے دو۔عبداللہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔مجھے قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے۔آپ نے دوبارہ فرمایا ” اس کا حق اسے لوٹا دو۔عبداللہ نے پھر وہی عذر کرتے ہوئے عرض کیا کہ میں نے اسے بتادیا ہے کہ آپ ہمیں خیبر بھجوائیں گے اور مال غنیمت میں سے کچھ حصہ دیں گے تو واپس آکر میں اس کا قرض چکا دوں گا۔آپ نے فرمایا ” ابھی اس کا حق ادا کرو۔“ نبی کریم جب کوئی بات تین دفعہ فرما دیتے تھے تو وہ قطعی فیصلہ سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ عبداللہ اسی وقت وہاں سے بازار گئے۔انہوں نے ایک چادر بطور تہ بند کے باندھ رکھی تھی۔سمر کا کپڑا اتار کر تہہ بند کی جگہ باندھا اور چادر چار درہم میں بیچ کر قرض ادا کر دیا۔اتنے میں وہاں سے ایک بڑھیا گذری۔وہ کہنے لگی ”اے رسول اللہ کے صحابی آپ کو کیا ہوا ؟“ عبداللہ نے سارا قصہ سُنایا تو اس نے اسی وقت اپنی چادر جو اوڑھ رکھی تھی ان کو دے دی اور یوں رسول اللہ کے عادلانہ فیصلے کی برکت سے دونوں فریق کا بھلا ہو گیا۔( احمد ) 10 ایک دفعہ ایک یہودی بازار میں سودا بیچ رہا تھا ، اسے ایک مسلمان نے کسی چیز کی تھوڑی قیمت بتائی، جوا سے ناگوار گزری۔اُس نے کہا کہ اُس ذات کی قسم جس نے موسی کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔اس بات پر مسلمان نے اُس کو تھپڑ رسید کر دیا اور کہا کہ نبی کریم پر بھی موسیٰ کو فضیلت دیتے ہو۔وہ یہودی رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابوالقاسم ہم آپ کی ذمہ داری اور امان میں ہیں اور آپ کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے اور اس مسلمان نے مجھے تھپڑ مار کر زیادتی کی ہے۔نبی کریم اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا مجھے نبیوں کے مابین فضیلت نہ دیا کرو۔( بخاری )11 اس میں کیا شک ہے کہ نبی کریم کو تمام انبیاء پر فضیلت حاصل ہے لیکن آپ نے ایثار اور انکسار کو کام میں لاتے ہوئے یہی فیصلہ فرمایا کہ ایسی باتوں سے ماحول میں فتنہ وفساد پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی حدرد سے مسجد میں اپنے قرض کا مطالبہ کر لیا۔اس دوران تکرار میں ہماری آوازیں کچھ اونچی ہو گئیں۔رسول اللہ نے گھر میں سن لیا۔آپ تشریف لائے اور مجھے بلایا اور فرمایا اپنا نصف قرض چھوڑ دو۔پھر عبداللہ سے کہا کہ اب آپ یہ نصف قرض ادا کر دو۔( بخاری 12) یہ واقعہ اگر حرمت شود سے پہلے کا ہو تو حضور نے سود والا حصہ چھٹروایا ہوگا۔بدلہ لینے کی پیشکش انصار کے ایک بزرگ سردار حضرت اسید بن حضیر کے بارہ میں روایت ہے کہ ان کی طبیعت میں مزاح بہت تھا۔وہ ایک دفعہ لوگوں کو باتیں سنارہے تھے۔ان کی کسی مزاحیہ بات پر جس سے وہ لوگوں کو ہنسار ہے تھے، حضور نے ان کے پہلو میں اپنی چھڑی چھوٹی۔وہ خوب جانتے تھے کہ رسول خدا آکبھی عدل وانصاف کو نہیں چھوڑتے۔چنانچہ وہ آپ سے کہنے لگے مجھے بدلہ دیں۔رسول اللہ نے فرمایا بے شک لے لو۔انہوں نے کہا آپ نے قمیص پہنا ہے، میں نے تو قمیص