اسوہء انسانِ کامل — Page 415
اسوہ انسان کامل 415 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی کے ذریعہ خیبر کی فتح مکمل ہو جائے گی۔اگلے روز آپ نے حضرت علی کو عالم جنگ عطا کیا اور ان کی قیادت میں مسلمانوں نے آخری قلعہ بھی فتح کر لیا۔فتح مکہ میں فراست مندانہ اقدام رسول اللہ نے تمام غزوات میں نقل و حرکت کی رازداری قائم رکھنے کے اصول سے بہت فائدہ اٹھایا۔آپ فرماتے تھے کہ جنگ در اصل ایک بار یک چال ہوتی ہے۔سفر خیبر کی طرح فتح مکہ کے سفر میں بھی رازداری کی حکمت عملی کا مقصد اہل مکہ کو تیاری جنگ کا موقع نہ دیکر انہیں کشت و خون سے بچانا تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکمت کی بناء پر نواح مدینہ میں یہ پیغام بھجوایا کہ اس دفعہ کا رمضان مدینہ میں گزاریں اور اہل مدینہ کو سفر کی تیاری کی ہدایت فرمائی۔لیکن یہ ظاہر نہ فرمایا کہ کہاں کا قصد ہے۔مدینہ سے مکہ کے تین سومیل کے فاصلے کے درمیان قریش کے جاسوسوں اور حلیف قبائل کی موجودگی میں ایک لشکر جرار کی تیاری اور نقل و حرکت کی راز داری کو قائم رکھنا بظاہر ایک انہونی سی بات لگتی ہے۔مگر رسول خدا نے اس مقصد کیلئے تدبیر یہ فرمائی کہ مدینے سے کے جانے والے تمام رستوں پر پہرے بٹھا دیے۔(حلبیہ (19 الغرض دس ہزار کا لشکر تیار ہو گیا مگر کسی سپاہی کو منزل کی خبر نہ تھی۔ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ کا قریش کو مدینہ کی ایک مغنیہ کے ذریعہ بھجوایا جانے والا اطلاعی خط جب پکڑا گیا تو اس میں بھی یہی لکھا تھا کہ رسول اللہ کا لشکر روانہ ہونے کو ہے معلوم نہیں کہاں کا قصد ہے۔پھر لشکر نے کوچ کیا تو بجائے سیدھے مکہ کی سمت روانہ ہونے کے آپ دوسری جانب رخ کر کے نکلے اور مکہ جانے والے عام راستہ کو چھوڑ کر نہایت تیزی سے سفر کرتے ہوئے مکہ کے عین سر پر مر الظہر ان پہنچ گئے اور اہل مکہ کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی۔مر الظہران کے وسیع میدان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا داد فراست کو کام میں لاتے ہوئے جنگی حکمت عملی کا ایک اور حیرت انگیز منصوبہ بنایا۔آپ نے صحابہ کوحکم دیا کہ وہ مختلف ٹیلوں پر بکھر جائیں اور آج ہر شخص آگ کا ایک الاؤ روشن کرے۔اس طرح اس رات دس ہزار آگئیں روشن ہو کر مرالظہران کے ٹیلوں پر ایک پرشکوہ اور ہیبت ناک منظر پیش کرنے لگیں۔( بخاری )20 عربوں کے دستور کے مطابق لشکر کے دس آدمیوں کی ایک ٹولی اپنی آگ روشن کیا کرتی تھی۔اب یہاں دس ہزار لشکر کے اتنے ہی آگ کے الاؤ مسلمانوں کے لشکر کی اصل تعداد کو دس گنا زیادہ ظاہر کر رہے تھے۔اس رات قریش کے سردار گشت پر نکلے تو حیران رہ گئے کہ یہ کس قبیلہ کا لشکر ہو سکتا ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد کا لشکر کسی عرب قبیلہ میں موجود نہ ہو سکتا تھا اور لشکر اسلام کی ایسی اچانک آمد ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔اگلے دن اسلامی لشکر مکہ کی جانب چلا تو رسول اللہ کی ایک اور حکمت عملی کے تحت ابوسفیان کو ایک بلند جگہ سے لشکر کی شان و شوکت کا نظارہ کرایا جارہا تھا۔تا کہ وہ مرعوب ہو کر حق قبول کر لے۔جب انصاری سردار سعد بن عبادہ اپنا دستہ لیکر ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو جوش میں آکر کہہ گئے۔