اسوہء انسانِ کامل — Page 28
اسوۃ انسان کامل 28 سوانح حضرت محمد علی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بریت ظاہر فرما دی ہے۔اس موقع پر وہ آیات اتریں جن کی تفصیل سورۃ النور 12 تا 21 میں مذکور ہے۔( بخاری ) 71 غزوہ بنو مصطلق کے ان قیدیوں میں سردار قبیلہ حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جو یہ یہ بھی تھیں جو ایک صحابی ثابت بن قیس کے حصہ میں آئیں۔وہ اپنے فدیہ کی ادائیگی کے لئے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے اس خیال سے کہ سردار قبیلہ کی بیٹی سے تعلق کے نتیجہ میں یہ قبیلہ جلد اسلام کی طرف راغب ہوگا۔ان کا فدیہ خود ادا کر کے نکاح کر لیا۔اس کے رد عمل کے نتیجہ میں اصحاب رسول ﷺ نے اس قبیلہ کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا کہ اب یہ رسول کریم ﷺ کے سسرالی رشتہ دار بن چکے ہیں۔چنانچہ قبیلہ بنو مصطلق کو اس احسان کے نتیجہ میں اسلام قبول کرنے کی توفیق مل گئی۔(ابن ہشام ) 72 جنگ احزاب غزوہ احزاب میں رسول کریم ﷺ کی زندگی پر وہ مشکل اور نازک دور آیا جب یہود مدینہ اور قریش مکہ نے عرب کے تمام قبائل کو جمع کر کے اسلام کو مٹانے کی آخری کوشش کی۔جنگ احد کے دو سال بعد ابوسفیان قبائل عرب کا ایک لشکر جرار لے کر (جس کی تعداد دس ہزار سے چوبیس ہزار بیان کی جاتی ہے) مدینہ پر حملہ آور ہوا۔رسول کریم ﷺ کو اطلاع ہوئی تو صحابہ سے مشورہ کیا۔حضرت سلمان فارسی نے ایرانی طریق کے مطابق دشمن کو یکدم حملہ سے روکنے کے لئے مدینہ کے غیر محفوظ اطراف سے خندق کھودنے کی تجویز دی۔کھدائی کا کام شروع ہوا تو خود رسول کریمہ فاقہ کی حالت میں کھدائی کے کام میں صحابہ کے ساتھ شریک ہوئے۔اس دوران جب ایک سخت چٹان درمیان آئی تو آپ خود اسے کدال سے توڑنے کے لئے آگے بڑھے۔چٹان تین ضربات سے ٹوٹ کر بکھر گئی۔ہر چوٹ پر ایک شعلہ نکلا تو آپ نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر اپنی آئندہ ہونے والی فتوحات نیز شام ، یمن اور ایران کے محلات کی چابیاں دیئے جانے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میری امت ان تمام ممالک پر غالب آجائے گی۔اگر چہ منافقوں نے مسلمانوں کے فاقہ کی اس حالت میں حکومتوں کے خواب دیکھنے کا مذاق اڑایا مگر چند ہی سال میں خدا اور اس کے رسول ﷺ کی یہ باتیں پوری ہو کر اس کی صداقت پر مہر ثبت کر گئیں۔ابوسفیان شہر کا محاصرہ کرنے کے بعد مدینہ میں موجود مسلمانوں کے حلیف یہود قبیلہ بنو قریظہ کو بھی غداری پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔اس وقت مسلمانوں کی پریشان کن حالت قرآنی بیان کے مطابق یہ تھی کہ ”جب دشمن تمہارے اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ہجوم کر کے آگیا اور گھبراہٹ کی وجہ سے تمہاری آنکھیں پتھر ا گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم اپنے اپنے رنگ میں خدا کی نسبت گمانوں میں پڑے۔اس وقت مومنوں کے لئے ایک سخت امتحان کا وقت تھا۔مسلمانوں پر ایک شدید زلزلہ وارد ہوا تھا“۔(سورۃ الاحزاب : 12)