اسوہء انسانِ کامل — Page 411
اسوہ انسان کامل 411 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی کی نزاکت کے پیش نظر اور ناموس رسول کی خاطر بعض اصحاب حضرت عائشہ کوطلاق دینے کا مشورہ دے چکے تھے۔مگر آپ نے حضرت عائشہ یا ان کے والدین سے اس واقعہ کا ذکر کرنا بھی گوارہ نہ کیا تا کہ انہیں کوئی جذباتی تکلیف نہ ہوتی کہ کافی دنوں تک خود حضرت عائشہ سرے سے اس جھوٹے اور من گھڑت قصہ سے ہی بے خبر رہیں۔اور رسول اللہ اپنے مولیٰ کی رہنمائی کے منتظر رہے۔پھر جب اس تکلیف دہ الزام تراشی کا طوفان بدتمیزی اپنی حدوں کو پھلانگنے لگا تو باوجودیکہ آپ کو حضرت عائشہ کے پاکیزہ کردار پر مکمل اعتماد تھا مگر کمال عدل اور دوراندیشی سے اس بارہ میں گھر یلو سطح پر اپنی تسلی کی کوشش کی اور پھر نہایت خاموشی اور صبر سے آنے والے وقت کا انتظار کیا۔اس دوران آپ نے ام المومنین حضرت زینب اور اپنے قریب ترین افراد خانہ حضرت علی اوار حضرت اسامہ سے مشاورت کے بعد بغرض اطمینان حضرت عائشہ کے بارہ میں ان کی خادمہ بریرہ سے رائے لی تو انہوں نے بھی ان کی صفائی پیش کرتے ہوئے اور برا ت کا اظہار کیا۔مگر وحی میں تاخیر باعث پریشانی تھی۔رسول اللہ نے حکمت کے تقاضا اور وقت کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے تکلیف میں مبتلا اپنے اصحاب پر کم از کم یہ ظاہر کرنے کا فیصلہ فرمایا کہ یہ سب عبداللہ بن ابی کی سازش ہے اور اس کے معاملہ میں مسلمانوں کو محتاط ہونا چاہئے۔چنانچہ آپ نے صحابہ کو جمع کر کے حقیقت حال سے متعلق نہایت مختصر اور جامع خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس شخص ( عبد اللہ بن ابی ) کو لگام دینے کے بارہ میں کون میرا عذر قبول کرے گا جس نے میری اہلیہ کے بارہ میں مجھے اذیت پہنچائی ہے۔جہاں تک میرے اہل کا تعلق ہے ان کے بارہ میں سوائے خیر و بھلائی کے کچھ ثابت نہیں ہوا۔اور جس شخص صفوان کے بارہ میں الزام لگایا گیا ہے اس کے بارے میں بھی سوائے خیر و بھلائی کے کچھ نہیں وہ ہمارے گھر میری موجودگی کے سوا کبھی آیا تک نہیں۔رسول اللہ کا یہ اظہار ایسا مؤثر تھا کہ اسے سن کر سردار اوس حضرت سعد نے طبعی جوش سے فتنہ کے بانی عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت چاہی تو اس کے قبیلہ خزرج کے سردار نے قبائلی عصبیت سے مشتعل ہو کر جواب دیا تم اسے قتل نہیں کر سکتے قریب تھا کہ دونوں قبائل کی قدیم عداوت کی چنگاری پھر بھڑک اُٹھے۔رسول اللہ نے کمال حکمت سے اس صورتحال کو احسن رنگ میں سنبھالا مگر پھر بھی اس موقع پر قطعی بات کے ظاہر ہونے تک کسی کا روائی سے گریز کیا۔اگر چہ اس کے نتیجہ میں مخلص مومنوں کو اپنے حسن ظن کا یقین ہو گیا اور کمز وہ طبع بدظنی کرنے والے بھی رسول اللہ کے اظہار براکت کے بعد طبعاً کچھ محتاط ہو گئے۔ایک ماہ گزرجانے کے بعد رسول اللہ نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ الزام محض جھوٹا ہے کمال عدل کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے محبوب ترین رشتہ حضرت عائشہ سے جو معاملہ کیا وہ آپ کے تقویٰ کی اعلیٰ شان کو ظاہر کرتا ہے۔آپ نے حضرت عائشہ سے پہلی اور آخری دفعہ کھول کر یہ اظہار فرمایا کہ اگر تو آپ واقعی اس الزام سے بری ہو (جیسا کہ آپ کو یقین تھا) تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری براکت ظاہر فرمائے گا اور اگر کسی غلطی کا ارتکاب ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر تو بہ کرنی چاہئے کہ وہی ہے جو بندہ کے اعتراف گناہ اور توبہ کے بعد رجوع رحمت ہوتا ہے۔یہ بات پاک دامن حضرت عائشہ کے لئے پہلے صدمہ سے بڑھ کر