اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 407 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 407

407 جنگوں میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی اسوہ انسان کامل دشمن کے اطلاعی نظام کا ناقص ہونا تھا۔دس ہزار کا لشکر مکہ کے سر پر آن پہنچا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔سرداران قریش رات کو شہر کی سرحدوں پر معمول کی گشت پر نکلے تو حضرت عمرؓ کے گشتی دستہ نے سردار مکہ ابوسفیان کو گر فتار کر کے رسول اللہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔پھر اس کی خواہش پر یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے بھی امان ہوگی۔جس کے بعد مسلمان مختلف اطراف سے پر امن طور پر مکہ میں داخل ہو گئے۔غزوات میں سپاہیوں کی حوصلہ افزائی اور دلداری دینی اور قومی سطح پر بے لوث خدمت گاروں اور تعاون کے جذ بہ سے سرشار ہوکر کام کرنے والوں کے لئے حوصلہ افزائی بھی ایک اہمیت رکھتی ہے۔رسول اللہ جنگ میں بھی جہاں اپنے صحابہ کی دلداری کا خیال رکھتے تھے، وہاں راہ خدا میں جان کی قربانی پیش کر نیوالوں کا بہت اعزاز فرماتے تا کہ آئندہ قربانی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہم سے پسپا ہو کر ہمیں واپس مدینہ آنا پڑا۔فجر کی نماز میں رسول اللہ سے ملاقات کر کے ہم نے اپنے کئے پر پشیمانی اور معذرت کا اظہار کیا تو آپ نے ہمارے حوصلے بڑھاتے ہوئے فرمایا دو تم بھگوڑے نہیں ہو بلکہ تازہ دم ہو کر دشمن پر دوبارہ حملہ کرنے والے ہو“۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے والہانہ جذبہ سے سرشار آگے بڑھ کر رسول اللہ کے ہاتھوں کو چوم لیا۔(ابوداؤد )5 حضرت سعد بن ابی وقاص بیان فرماتے تھے کہ احد کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ”اے سعد! تیر چلاؤ۔میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ میدان احد میں تیر بانٹنے والا جب اپنا ترکش لے کر حضور کے پاس سے گذرتا تو آپ فرماتے ارے ! ابوطلحہ کے لئے تیر پھیلا دو۔یہ ابوطلحہ کی حوصلہ افزائی تھی جو پوری ہمت سے دشمن کے آگے سینہ سپر تھے۔( بخاری )6 غزوہ خیبر میں جب ایک صحابی حضرت عامر یہودی سردار مرحب سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی تلوار کے کاری زخم سے جانبر نہ ہو سکے تو بعض لوگوں نے عامر کی شہادت کو خود کشی گمان کیا۔عامر کے بھتیجے حضرت سلمہ بن الاکوع " بہت غمگین تھے۔رسول اللہ دیکھ کر بھانپ گئے اور ان سے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے اپنے چچا عامر کے بارہ میں لوگوں کے خیال کا ذکر کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بھی یہ کہا غلط کہا ہے۔پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر فرمایا ”عامر کیلئے دوہرا اجر ہے۔وہ تو جہاد کر نیوالا ایک عظیم الشان مجاہد تھا۔( بخاری )7 غزوہ احد میں دوراندیشی تمام غزوات النبی میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائدانہ صلاحیتوں ، حکمت عملی اور فراست و بصیرت بھی کھل کر اظہار ہوا۔غزوہ احد کے موقع پر جب آپ نے مدینہ سے باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کا ارادہ فرمایا تو ایک طرف شہر کو دشمن سے حفاظت کی خاطر اپنے پیچھے رکھا تو دوسری طرف احد پہاڑ کی آڑ لیکر اسے ڈھال بنایا۔پھر حضور کی نظر اس پہاڑی درے