اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 390 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 390

390 اسوہ انسان کامل غزوات النبی میں خلق عظیم آپ کی رسالت قبول کرنے میں متامل تھا۔اے دنیا والو! دیکھو اس عظیم رسول کے حو صلے تو دیکھو، عین حالت جنگ میں جرنیلوں کی معزولی کے تمام خطروں سے آگاہ ہوتے ہوئے یہ فیصلہ سناتے ہیں کہ سعد سے اسلامی جھنڈا واپس لے لیا جائے۔(ابن ھشام )62 مگر ہاں اس محسن اعظم کے احسان پر بھی تو نظر کرو کہ غیرت اسلام کے جوش میں سرشارا ایسا نعرہ بلند کرنے والے جرنیل سعد کا بھی آپ کس قدر لحاظ رکھتے ہیں۔ساتھ ہی دوسرا حکم یہ صادر فرماتے ہیں کہ سعد کی بجائے سالار فوج ان کے بیٹے قیس بن سعد کو مقرر کیا جاتا ہے۔(الحلبیہ (63 کیا جنگوں کی ہنگامہ خیزیوں میں بھی کبھی اپنے خدام کے جذبات کا ایسا خیال رکھا گیا ہے؟ نہیں نہیں یہ صرف اس رحمۃ للعالمین کا ہی خلق عظیم تھا جو سزا میں بھی رحمت و شفقت اور احسان کا پہلو نکال لیتے تھے۔فتح مکہ عظمت اخلاق کا بلند ترین مینار فاتحین عالم کے اس دستور سے کون ناواقف ہوگا کہ شہروں میں داخلے کے وقت آبادیوں کو ویران اور ان کے معزز مکینوں کو بے عزت اور ذلیل کر دیا جاتا ہے، لیکن رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی عظیم ترین فتح کو بھی تو دیکھو جہاں آپ کی عظمت اخلاق کا سب سے بلند اور روشن ترین مینار ایستادہ ہے۔جب دس ہزار قد وسیوں کا لشکر مکہ کے چاروں اطراف سے شہر میں داخل ہوا تو قتل و غارت کا بازار گرم ہوانہ قتل عام کی گرم بازاری بلکہ امن و سلامتی کے شہنشاہ کی طرف سے یہ فرمان شاہی جاری ہوا کہ ” آج مسجد حرام میں داخل ہو نیوالے ہر شخص کو امان دی جاتی ہے۔امان دی جاتی ہے ہر اس شخص کو جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے یا اپنے ہتھیار پھینک دے اپنا دروازہ بند کر لے اور ہاں جو شخص بلال حبشی کے جھنڈے کے نیچے آجائے اسے بھی امان دی جاتی ہے۔“ ( الحلبیہ (64 اس اعلان کے ذریعہ جہاں خانہ کعبہ کی حرمت قائم کی گئی وہاں دشمن اسلام ابوسفیان کی دلداری کا بھی کیسا خیال رکھا گیا یہی وہ اعلیٰ اخلاق تھے جس سے بالاخرا بو سفیان کا دل اسلام کے لئے جیت لیا گیا اور اسے اس تالیف قلب کے ذریعہ نبی کریم کی رسالت پر ایمان نصیب ہوا۔بلال کے جذبات کا خیال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بلال کے جھنڈے کو امن کا نشان قرار دینا بھی علم النفس کے لحاظ سے آپ کے اخلاق فاضلہ کی زبر دست مثال ہے، کوئی وقت تھا جب مکے کے لوگ بلال کو سخت اذیتیں دیا کرتے تھے اور مکے کی گلیاں بلال کے لئے ظلم و تشدد کی آماجگاہ تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا آج بلال کا دل انتقام کی طرف مائل ہوتا ہوگا، اس وفادار ساتھی کا انتقام لینا بھی ضروری ہے۔لیکن ہمارا انتقام بھی اسلام کی شان کے مطابق ہونا چاہئے پس آپ نے