اسوہء انسانِ کامل — Page 389
اسوہ انسان کامل 389 غزوات النبی میں خلق عظیم عملی کا ایک حیرت انگیز منصوبہ بنایا۔آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مختلف ٹیلوں پر بکھر جائیں اور ہر شخص آگ کا ایک الاؤ روشن کرے۔اس طرح اس رات دس ہزار آگئیں روشن ہو کر مر الظہران کے ٹیلوں پر ایک پرشکوہ اور ہیبت ناک منظر پیش کرنے ہو لگیں۔( بخاری ) 58 عربوں کے دستور کے مطابق لشکر کے دس آدمیوں کی ایک ٹولی اپنی آگ روشن کرتی تھی۔اب یہاں دس ہزار لشکر کے اتنے ہی آگ کے الاؤ مسلمانوں کے لشکر کی اصل تعداد کو کہیں زیادہ ظاہر کر رہے تھے۔ابوسفیان کو معافی اُدھر ابوسفیان اور اس کے ساتھی سردار رات کو شہر مکہ کی گشت پر نکلے تو یہ ان گنت روشنیاں دیکھ کر واقعی حیران و ششدر رہ گئے۔ابوسفیان کہنے لگا خدا کی قسم میں نے آج تک اتنا بڑا لشکر اور آگیں نہیں دیکھیں۔وہ ابھی یہ اندازے ہی لگارہے تھے کہ اتنا بڑ الشکر کس قبیلے کا ہوسکتا ہے؟ کہ حضرت عمر کی سرکردگی میں مسلمانوں کے گشتی دستے نے ان کو پکڑ لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔اس موقع پر حضرت عمر نے دشمن اسلام ابوسفیان کو قتل کرنا چاہا لیکن آنحضرت تو اس کے لئے پہلے امن کا اعلان کر چکے تھے کہ ابوسفیان بن حرب کسی کو ملے تو اسے کچھ نہ کہا جائے۔یہ گویا آپ کی طرف سے ابوسفیان کی ان مصالحانہ کوششوں کا احترام تھا جو اس نے معاہدہ شکنی کے خوف سے مدینے آکر چالاکی سے کی تھیں اور ان کی کوئی قیمت نہ تھی لیکن آپ کی رحمت بھی تو بہانے ڈھونڈ تی تھی۔(ابن ھشام) 59 چنانچہ حضرت عباس نے ابو سفیان کو پناہ دی۔صبح جب ابو سفیان دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا۔ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم گواہی دو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔تب ابوسفیان نے بے ساختہ یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نہایت حلیم ، شریف اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا وہ ضرور ہماری مدد کرتا البتہ آپ کی رسالت کے قبول کرنے میں ابھی کچھ تامل ہے۔(ابن ھشام ) 60 حضرت عباس کو ارشاد رسول ہوا کہ جب اسلامی لشکر مکہ کی جانب روانہ ہوتو ابوسفیان کو کسی بلند جگہ سے لشکر کی شان و شوکت کا نظارہ کرایا جائے ، شاید یہ دنیا دار شخص اس سے مرعوب ہو کر حق قبول کر لے۔دس ہزار قد وسیوں کا شکر چلا ، ہر امیر فوج جھنڈا بلند کئے دستہ کے آگے تھا۔انصاری سردار سعد بن عبادہ اپنا دستہ لیکر ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو جوش میں آکر کہہ گئے۔الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةُ الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةَ آج جنگ و جدال کا دن ہے آج کعبہ کی عظمت قائم کرنے کا دن ہے۔( بخاری ) 61 نبی کریم ﷺ نے اپنے اس کمانڈر کو جو ایک طاقتور قبائلی سردار تھا معزول کر دیا کہ اس نے حرمت کعبہ کے بارے میں ایک ناحق بات کیوں کہہ دی اور ابوسفیان کا دل بھی دکھایا۔ہاں ! اس دشمن اسلام ابوسفیان کا جو مفتوح ہو کر بھی ابھی