اسوہء انسانِ کامل — Page 383
اسوہ انسان کامل 383 غزوات النبی میں خلق عظیم معاہدہ طے ہو جانے کے بعد رسول اللہ نے صحابہ سے فرمایا کہ اب اپنی قربانیاں یہیں میدان حدیبیہ میں ذبح کر ڈالو۔صحابہ غم سے نڈھال اور صدمہ سے مدہوش تھے۔وہ بے حس و حرکت اور ساکت و جامد کھڑے تھے۔رسولِ خدا نے تین مرتبہ اپنا حکم دہرایا کہ اپنی قربانیاں ذبح کر دو مگر کسی کو ہمت نہ ہوئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت ام سلمہ کے خیمہ میں تشریف لے گئے اور افسوس کے رنگ میں ان سے میہ ذکر کیا کہ صحابہ میری ہدایت کے مطابق قربانیاں ذبح کرنے میں متردد ہیں۔ام سلمہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ قربانیاں کروانا چاہتے ہیں تو کسی سے بات کئے بغیر خود جا کر میدان حدیبیہ میں اپنی قربانی ذبح کر دیں۔ام سلمہ کا مشورہ کتنا صائب تھا۔واقعی غم کے وہ بت نمونہ چاہتے تھے۔رسول اللہ کی اپنی قربانی ذبح کرنے کی دیر تھی کہ صحابہ اس طرح دھڑا دھڑ اپنی قربانی کے جانور ذبح کرنے لگے کہ میدان حدیبیہ حرم بن گیا۔صحابہ کے غم کا یہ حال تھا کہ قربانی کے بعد وہ کانپتے بدن اور لرزتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے سر مونڈ رہے تھے اور خطرہ تھا کہ لرزتے ہاتھوں سے کہیں وہ ایک دوسرے کی گردنیں ہی نہ کاٹ ڈالیں۔( بخاری ) 43 فتح خیبر میں خلق عظیم مسلمانانِ مدینہ کو جنوب کی سمت سے اہل مکہ کے حملہ کا خطرہ رہتا تھا تو شمال سے یہود خیبر کا صلح حدیبیہ اس طرح فتح خیبر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی کہ مسلمان اس معاہدہ صلح کے باعث اہل مکہ کے خطرہ سے امن میں آگئے۔اب اُن کے لئے یہود خیبر کے شمالی خطرے سے نبٹنا آسان تھا۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد تین ماہ کی قلیل مدت میں ہی خیبرے ھے میں فتح ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کی تیاری کا حکم دیا تو یہ اعلان فرمایا کہ " کوئی شخص جہاد کے علاوہ کسی غنیمت وغیرہ کے ارادہ سے ہمارے ساتھ نہ نکلے۔“ ( الحلبیہ (44 پھر آپ نے اس ہدایت کی تعمیل کیلئے عملی کار روائی یہ فرمائی کہ حدیبیہ میں شامل افرادہی کو خیبر کی تیاری کا حکم فرمایا، جو خلوص نیت سے حج اور عمرہ کے ارادہ سے نکلے تھے اور رسول اللہ کے ہاتھ پر موت پر بیعت کر کے ہر حال میں آپ کی فرمانبرداری کا عہد تازہ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کے پاکیزہ ارادوں پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے انہیں ایک فتح قریب کی بشارت بھی عطا فرمائی تھی۔(سورۃ الفتح: 19) خیبر میں دس ہزار مسلح قلعہ بند یہودیوں کے مقابل پر اپنے لشکر کو محض حدیبیہ کے چودہ سو اصحاب میں محدود کردینا جنگی نقطہ نگاہ سے بظاہر مناسب نظر نہیں آتا لیکن آنحضرت کے پیش نظر یہ ضابطہ اخلاق تھا کہ محض مال غنیمت کی نسیت سے کوئی شخص ہمارے لشکر میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔(الحلبیہ (45) یہ پاکیزہ نمونہ بڑی شان کے ساتھ ہمیشہ اس الزام کی نفی کرتا رہے گا کہ اسلامی جنگوں کا مقصد محض لوٹ مار اور حصول غنیمت تھا۔