اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 382 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 382

اسوہ انسان کامل 382 غزوات النبی میں خلق عظیم تھی ،مگر رسول اللہ نے فرمایا خدا کی قسم میں تو اللہ کا رسول ہوں خواہ تم میری تکذیب کرو۔لیکن صلح کی خاطر میں اس پر بھی راضی ہوں کہ محمد بن عبد اللہ ہی لکھ لو۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا کہ یہ صلح اس شرط پر ہے کہ تم ہمیں امن سے طواف کرنے دو گے۔سہیل نے کہا سارے عرب کیا کہیں گے کہ ہم نے اتنی جلدی شکست قبول کر لی ، اس لئے اس سال نہیں ہاں اگلے سال آپ لوگ طواف کر سکو گے۔چنانچہ یہی لکھا گیا۔پھر سہیل نے یہ شرط لکھوائی کہ ہماری طرف سے کوئی آدمی مسلمان ہو کر اور بھاگ کر مدینہ جائے گا تو آپ اسے مکہ واپس لوٹائیں گے۔مسلمان اس پر سخت جذباتی ہو کر کہنے لگے کہ مظلوم مسلمانوں کو ہم کیسے مشرکوں کے حوالے کر دیں گے؟ ابھی یہ شرط طے نہیں پائی تھی اور بحث جاری تھی کہ سہیل کا مظلوم بیٹا ابو جندل ( جو مسلمان تھا اور اسے سہیل نے قید کر رکھا تھا) پابجولاں ہتھکڑیاں اور بیٹریاں اُٹھائے آیا اور رحم کی بھیک مانگتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے ڈال دیا۔سہیل کہنے لگا اب میری پہلی شرط یہ ہوگی کہ ابو جندل ہمیں واپس لوٹا دو۔رسول اللہ نے فرمایا ابھی اس شرط کا فیصلہ نہیں ہوا اور معاہدہ کی تکمیل بھی نہیں ہوئی ، ابو جندل کو لوٹانے کا کیا سوال ہے۔مگر سہیل نے کہا کہ خدا کی قسم! پھر میں معاہدہ نہیں کرونگا۔نبی کریم نے فرمایا کہ اچھا تمہاری شرط مان لیتے ہیں، اب تم میری خاطر ہی ابو جندل کو چھوڑ دو۔سہیل نے کہا میں اسے آپ کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا۔آپ نے پھر اصرار کیا۔مگر سہیل راضی نہ ہوا۔ابو جندل نے اپنی قسمت کا فیصلہ خلاف ہوتے دیکھا تو دہائی دینے لگا کہ اے مسلمانو! کیا میں اس حالت من میں مشرکوں کی طرف واپس لوٹایا جاؤں گا حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں تم دیکھتے نہیں انہوں نے مجھے اذیتیں دے کر میرا کیا حال کر رکھا ہے؟ اُس وقت مسلمانوں کے ہوش و حواس جواب دے چکے تھے۔حضرت عمر جیسے جری کے حو صلے بھی اس ابتلا میں پست ہو گئے۔وہ رسول اللہ سے مخاطب ہوئے کہ کیا آپ اللہ کے نبی برحق نہیں؟ نبی کریم ہے نے کمال اعتماد سے جواب دیا کیوں نہیں۔عمر نے کہا کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں؟ رسول کریم نے فرمایا کیوں نہیں۔عمرؓ نے کہا پھر اپنے دین کے بارے میں ہم ذلت کیوں قبول کر رہے ہیں؟ رسول اللہ نے کمال صبر و حوصلہ سے جواب دیا۔میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی نافرمانی نہیں کرتا وہی میرا مددگار ہے۔عمر نے کہا۔کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم امن سے خانہ کعبہ کا طواف کریں گے ؟ رسول اللہ نے فرمایا ہاں۔مگر کیا میں نے یہ کہا تھا ہم اسی سال طواف کریں گے؟ عمر نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا تو پھر اگلے سال آکر آپ طواف کرو گے۔قریباً ایسے ہی جذبات دیگر صحابہ کے تھے۔جن کو حضرت عمرؓ نے زبان دی تھی۔مگر ایک رسول اللہ تھے کہ کوہ استقامت بنے ہوئے تھے۔یا پھر صدیق اکبر انشراح صدر کے ساتھ آپ کی رکاب سے چمٹے ہوئے حضرت عمر کو بھی یہی وعظ کر رہے تھے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ان کی رکاب تھامے رکھنا خدا کی قسم ! یہ حق پر ہیں۔حضرت عمر بعد میں کہا کرتے تھے کہ حدیبیہ پر جوا بتلا مجھے پیش آیا۔میں نے اس کی تلافی کے لئے بہت نیک اعمال کئے کہ اللہ تعالیٰ وہ لغزش معاف کر دے۔