اسوہء انسانِ کامل — Page 381
381 غزوات النبی میں خلق عظیم اسوہ انسان کامل نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھ لئے تھے اور طواف کے بعد قربانی کرنے کیلئے جانور اپنے ساتھ رکھ لئے تھے۔ادھر اہل مکہ کو پتہ چلا تو انہوں نے مسلمانوں کو طواف بیت اللہ سے روکنے کا فیصلہ کیا اور اس غرض سے ایک لشکر جس میں دو سو گھر سوار تھے۔مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے تیار کیا۔مکہ کے قریب حدیبیہ مقام پر رسول اللہ کی اونٹنی رک گئی وہ کسی طرح بھی آگے نہ بڑھتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے ہر حال میں راضی برضار ہنا سیکھا تھا۔فرمانے لگے یہ اونٹنی خود نہیں رکی المی منشا یہی معلوم ہوتا ہے۔جس خدا نے ہاتھیوں کو خانہ کعبہ پرحملہ سے روکا تھا، اُسی خدا نے آج اسے بھی روکا ہے، تا بیت اللہ کا امن خراب نہ ہو۔پھر آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بھی ایسا مطالبہ جو قریش مکہ مجھ سے کریں جس سے اللہ کی قابل احترام چیزوں کی حرمت قائم ہوتی ہو، میں لازماً اسے قبول کرونگا۔عرب سردار بدیل بن ورقاء قریش کی طرف سے پہلی سفارت کے طور پر مسلمانوں کو طواف کعبہ سے روکنے کا پیغام لے کر آیا۔اس نے خوب ڈرانے کی کوشش کی اور کہا کہ اہل مکہ نے اردگرد سے کئی جنگجو اکٹھے کر لئے ہیں اور وہ خدا کی قسمیں کھا رہے ہیں کہ آپ کو امن سے طواف بیت اللہ نہیں کرنے دیں گے۔رسول اللہ نے کس شان اور وقار سے جواب دیا کہ ہمارا مقصد جنگ و قتال نہیں۔ہم تو محض طواف بیت اللہ کی غرض سے آئے ہیں۔پھر آپ نے اپنے اس مضبوط موقف کے اظہار کیلئے کھل کر فرمایا کہ اس مقصد میں جو روک بنے گا اس سے مجبوراً ہمیں جنگ بھی کرنی پڑی تو کریں گے ، سوائے اس کے کہ قریش ہم سے کسی خاص مدت تک معاہدہ صلح کر لیں۔“ رسول اللہ کا یہ عزم بالجزم دیکھ کر اہل مکہ کے موقف میں نرمی آئی اور عروہ بن مسعود ان کی طرف سے یہ پیغام لایا کہ اس سال مسلمان واپس چلے جائیں اور اگلے سال آکر طواف کر لیں۔یہ محض ضد اور ہٹ دھرمی تھی مگر رسول اللہ تو قدم قدم پر امن کے متلاشی تھے۔آپ نے حضرت عثمان بن عفان کو مکے بھیجوایا تا کہ وہ اپنے اثر ورسوخ سے سردارانِ قریش میں کوئی نرم گوشہ تلاش کریں۔ان کے مذاکرات اس قدر طویل ہو گئے کہ مشہور ہو گیا عثمان شہید کر دیے گئے۔یہ بھی دراصل مشیت الہی تھی، کیونکہ یہ خبر سن کر عثمان کا بدلہ لینے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے موت پر بیعت لی اور مٹھی بھر صحابہ کے جذبوں کو ایسا جوان کر دیا کہ وہ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔اب وہ ہر حال میں مرنے مارنے پر تیار تھے اور کسی طرح طواف کئے بغیر ٹلنے والے نہ تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امن اور تعظیم حرم بیت اللہ کی خاطر قدم قدم پر نہ صرف اپنی بلکہ اپنے صحابہ کے جذبات کی قربانی بھی پیش کی۔نمائندہ قریش سہیل بن عمرو کے ساتھ معاہدہ صلح لکھواتے ہوئے رسول اللہ نے فرمایا کہ لکھو بِسمِ اللهِ الرَّحْمَانِ الرَّحِیم توسہیل نے کہا میں رحمان کو نہیں جانتا ہاں۔لکھو تیرے نام کے ساتھ اے اللہ ! اس پر مسلمان کہنے لگے خدا کی قسم ہم تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمَانِ الرَّحِیم ہی لکھیں گے لیکن رسول اللہ نے فرمایا چلو ہی لکھ لوکہ اللہ کا نام ہی ہے غیر الہ کا تو نہیں۔پھر جب آپ لکھوانے لگے کہ یہ معاہدہ محمد رسول اللہ کا قریش کے ساتھ ہے، تو سہیل پھر اڑ گیا کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو بیت اللہ سے کیوں روکتے اس لئے محمد بن عبد اللہ لکھو۔بلا شبہ مسلمانوں کیلئے یہ بھی تکلیف دہ بات