اسوہء انسانِ کامل — Page 380
اسوہ انسان کامل 380 غزوات النبی میں خلق عظیم کے ارادے سے نکلے تھے۔مگر ایک طرف طویل محاصرہ نے ان کے حوصلے پست کئے تو دوسری طرف الٰہی نصرت مسلمانوں کے شامل حال ہوئی اور سخت سردی کے ان ایام میں اچانک طوفانی آندھی سے سب لشکر پسپا ہو گئے۔اُس وقت بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی عظمت کا نعرہ ہی بلند کیا اور فرمایا لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ نَصَرَ عَبْدَه، وَ هَرَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہ، کہ اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔جس نے اپنے لشکر کی مد کی اور تنہا تمام لشکروں کو پسپا کر دیا۔رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی فراست کی عجیب شان بھی اس موقع پر ظاہر ہوئی آپ نے فرمایا کہ آئندہ بھی اس طرح محصور ہو کر ہم حملہ آور ہونے کا موقع نہ دیں گے بلکہ آگے بڑھ کر دفاع کریں گے۔( بخاری ) 41 بحیثیت سالار فوج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا احساس ذمہ داری بھی غیر معمولی تھا۔غزوہ خندق کے مخدوش حالات میں حفاظتی حکمت عملی بہت ضروری تھی۔جس میں اسلامی قیادت کی حفاظت سرِ فہرست تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مخفی مقام پر رہائش رکھتے تھے اور صحابہ کے ایک خاص دستہ کے علاوہ عام لوگوں کو اُس جگہ کی خبر نہ ہوتی تھی۔حضور کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور صحابہ میں حضرت طلحہ ، حضرت زبیر، حضرت علی، حضرت سعد، اور انصار میں سے حضرت ابودجانہ اور حضرت حارث بن الصمہ تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں۔جنگ احزاب کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نازک جگہ کی بڑی فکر رہتی تھی جہاں سے حملے کا خطرہ ہوسکتا تھا۔آپ اس پر ہمہ وقت نظر رکھتے تھے، جب بھی آکر سونے لگتے اور ذراسی آہٹ پاتے تو اُٹھ کھڑے ہوتے۔ایک دفعہ جو اسلحہ کی جھنکار سنی تو پوچھا کون ہے؟ یہ حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمایا کہ وہ اس نازک مقام پر پہرہ دیں۔اس رات رسول اللہ تسلی سے سوئے۔( سیتمی )42 غزوہ حدیبیہ میں اخلاق فاضلہ حدیبیہ کا واقعہ بھی مسلمانوں کیلئے ایک اور امتحان بن کر آیا۔مگر اس موقع پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ہر چند کہ حدیبیہ کا سفرکسی غزوہ یا جہاد کی غرض سے نہیں تھا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک رؤیا کی تکمیل کی خاطر طواف بیت اللہ کی ایک کوشش تھی۔رویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا کہ آپ آپنے صحابہ کی معیت میں امن کے ساتھ خانہ کعبہ میں داخل ہو کر طواف کر رہے ہیں۔اس رؤیا کو طواف بیت اللہ کیلئے ایک انہی اشارہ سمجھتے ہوئے ذوالقعدہ 6 ھ میں آپ نے اپنے چودہ سوصحابہ کے ساتھ مکہ کیلئے رخت سفر باندھا۔طوائف الملو کی کے اس دور میں تلوار عرب مسافروں کے لباس کا لازمی حصہ تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیا کے مطابق امن کی علامت کے طور پر مسلمانوں کو تلواریں بھی نیام میں رکھنے کا حکم دیا۔ان کے علاوہ کوئی جنگی ہتھیار ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں تھی ، مسلمانوں