اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 379 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 379

اسوہ انسان کامل 379 غزوات النبی میں خلق عظیم اے رحمت مجسم ! تجھ پر سلامتی ہو تجھ پر ہزاروں رحمتیں! ہم نے عفو کی تعلیم کے چھ چے تو دنیا میں بہت سنے لیکن عفوو رحمت کے نمونے تیرے وجود ہاجو د ہی سے دیکھے۔ہاں ہاں تیرے ہی دم قدم سے عفو و کرم کے ایسے چشمے پھوٹے کہ اپنے تو اپنے بیگانے بھی اس سے فیضیاب ہوئے۔غزوہ احزاب میں خلق عظیم جنگ احد کے بعد جنگ احزاب مسلمانانِ مدینہ کا ایک بہت سخت اور کڑا امتحان تھا۔جس میں مدینہ سے نکالے گئے یہود نبی نفیر کے اُکسانے پر قبائل عرب بنو غطفان، بنو سلیم وغیرہ نے قریش مکہ کے ساتھ مل کر مدینہ پر اجتماعی حملہ کا خوفناک منصوبہ بنایا۔اس کے لئے چار ہزار کا لشکر ابتداء میں ہی جمع ہو گیا۔جس میں تین صد گھڑ سوار اور ڈیڑھ ہزار شتر سوار تھے۔ابوسفیان کی سرکردگی میں یہ لشکر مکے سے نکلا تو دیگر قبائل بنو اسد ، فزارہ، اشجع ، بنومرہ وغیرہ اسمیں شامل ہوتے چلے گئے اور مدینہ پہنچنے تک قبائل عرب کی متحدہ فوجوں کا یہ لشکر دس ہزار تک پہنچ گیا۔اس کے مقابل مسلمان صرف تین ہزار تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی اطلاع پا کر صحابہ سے مشورہ کیا اور سلمان فارسی کی رائے قبول کرتے ہوئے مدینہ کی حفاظت کے لئے اس کے گرد ایک خندق کھودنے کا فیصلہ ہوا۔اس مدبرانہ فیصلہ سے مسلمانوں کے جان و مال تمام متحدہ قبائل عرب سے محفوظ رہے ، ورنہ وہ انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے مسلمانوں کو اچک لینے کے ارادے لے کر آئے تھے۔اس نہایت نازک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائدانہ صلاحیتیں خوب نکھر کر سامنے آئیں، ہر چند کہ یہ موقع مسلمانوں کی زندگی کے سب سے بڑے خطرے کا تھا۔قرآن شریف کے بیان کے مطابق ان کی زندگیوں پر ایک زلزلہ طاری تھا اور جانیں حلق تک پہنچی ہوئی تھیں۔مگر رسول خدا تھے کہ سب کیلئے ڈھارس، حو صلے اور سہارے کا موجب تھے۔پہلے تو آپ صحابہ کے ساتھ مل کر خندق کی کھدائی میں مصروف نظر آتے ہیں۔کبھی کوئی سخت چٹان حائل ہو جاتی ہے، جو کسی سے نہیں ٹوٹتی تو خود خدا کا رسول وہاں پہنچتا ہے۔حال یہ ہے کہ فاقہ سے دو پھر پیٹ پر باندھ رکھے ہیں مگر کدال لیکر تین ضربوں سے پتھر کو ریزہ ریزہ کر چھوڑتے ہیں۔اس نازک موقع پر بھی خدا کے وعدوں پر ایمان و یقین کا یہ عالم ہے کہ وحی الہی کی روشنی میں صحابہ کے حو صلے بڑھاتے اور انہیں بتاتے ہیں کہ ہر ضرب پر جو اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا گیا تو شام و ایران اور صنعاء ویمن کے محلات مجھے دکھائے گئے اور ان کی چابیاں مجھے عطا کی گئیں۔(احمد 40 ) یہ سن کر ان فاقہ کشوں کے حوصلے کتنے بلند ہوئے ہونگے۔جنہیں جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔بعد کے حالات نے یہ بھی ثابت کیا کہ خندق کے ذریعہ محصور ہو کر مسلمانوں کے دفاع کا فیصلہ کتنا مد برانہ اور دانشمندانہ تھا۔بلاشبہ وہ خندق نہتے مسلمانوں معصوم بچوں اور عورتوں کیلئے متحدہ قبائل عرب کے خونخوار اور بھرے ہوئے لشکروں سے پناہ کا ذریعہ بن گئی جو مدینہ کو لوٹنے اور مسلمان مردوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنا کر ساتھ لے جانے