اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 362 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 362

اسوہ انسان کامل 362 نبی کریم کا مصائب پر صبر حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم مجلس میں تشریف فرما تھے اور چہرہ سے حزن و ملال کے آثار صاف ظاہر تھے۔کسی نے آکر عورتوں کے بین کرنے کا ذکر کیا تو آپ نے اُن کو سمجھانے کی ہدایت فرمائی۔( بخاری ) 24 نبی کریم نے اپنے ساتھیوں کے عزیزوں کی موت کے صدمے میں بھی شریک ہوئے اور انہیں صبر کا نمونہ دکھانے کی نصیحت فرمائی۔نوجوان صحابی حضرت معاذ بن جبل کا بیٹا فوت ہو گیا۔نبی کریم نے ان کے ساتھ اظہار افسوس کرتے جو بے ہوئے جو تعزیتی خط تحریر فرمایا وہ آپ کے صبر و رضا کا ایک شاہکا رہے۔آپ نے بسم الله الرحمن الرحیم “ کے بعد تحریر فرمایا:۔یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے معاذ بن جبل کی طرف ہے۔آپ پر سلام ہو میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس کے بعد تحریر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم اجر عطا کرے اور آپ کو صبر الہام کرے اور ہمیں اور آپ کو شکر کی توفیق دے۔(یا درکھو) ہماری جانیں اور ہمارے مال اور ہماے اہل وعیال سب اللہ کی عطا ہیں۔یہ امانتیں ہیں جو اس نے ہمارے سپر دفرمائی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس بچے کے عوض کچی خوشی نصیب کرے اور اس کی موت کے بدلے تمہیں بہت سا اجر برکتوں اور رحمتوں اور ہدایت کا عطا کرے۔۔اگر تم ثواب کی نیت رکھتے ہو تو صبر کرو اور واویلا کر کے اپنا اجر ضائع نہ کر بیٹھو کہ بعد میں تمہیں ندامت ہو اور جان لو کہ واویلا کرنے سے مردہ واپس نہیں آجا تا۔نہ ہی جزع فزع اور بے صبری غم کو دور کرتی ہے اور جو مصیبت انسان کے مقدر میں ہے وہ تو آنی ہی ہوتی ہے۔والسلام ( بیشمی ) 25 نبی کریم کی اس پاکیزہ تعلیم کا نتیجہ تھا کہ ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش نے اپنے سگے بھائی کی وفات کے تیسرے دن آرائش کا سامان منگوا کر چہرے کی تزئین کی۔اور فرمایا کہ بے شک مجھے اس عمر میں اس آرائش کی ضرورت نہیں ،مگر میں نے رسول کریم سے سنا ہے کہ کسی مومن عورت کے لئے جائز نہیں کہ خاوند کے سوا کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔خاوند کی موت پر چار ماہ دس دن سوگ کرنا ضروری ہے۔یہی حال دیگر ازواج مطہرات کا تھا۔( بخاری )26 غیروں کا اعتراف پر کاش دیو جی رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کے مظالم پر صبر واستقامت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔حضرت کے او پر جو ظلم ہوتا تھا اُسے جس طرح بن پڑتا تھا وہ برداشت کرتے تھے۔مگر اپنے رفیقوں کی مصیبت دیکھ کر اُن کا دل ہاتھ سے نکل جاتا تھا اور بیتاب ہو جاتا تھا اُن غریب مومنوں پر ظلم وستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔لوگ اُن غریبوں کو پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کر کے جلتی تپتی ریت میں لٹا دیتے اور اُن کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے۔مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی۔بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں۔