اسوہء انسانِ کامل — Page 22
اسوۃ انسان کامل 22 سوانح حضرت محمد علی بعد میں خود ایک قیدی کہا کرتا تھا کہ اللہ رحم کرے مدینہ والوں پر۔وہ ہمیں سوار کرتے تھے اور خود پیدل چلتے تھے۔ہمیں کھانے کے لئے گندم کی روٹی دیتے تھے جس کی اس زمانہ میں بہت قلت تھی اور خود کھجوروں پر گزارا کرتے تھے۔اس لحاظ سے یہ بات تعجب خیز نہیں ہونی چاہئے کہ بعد میں جب ان قیدیوں کے لواحقین فدیہ لے کر انہیں آزاد کروانے آئے۔تو ان میں سے کئی قیدیوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اور ایسے تمام قیدیوں کو رسول اللہ نے فدیہ لئے بغیر آزاد کر دیا۔( میور ( 51 اگر چہ قواعد جنگ کی رو سے یہ سب قیدی واجب القتل تھے لیکن رسول کریم ﷺ نے ہر قیدی کی توفیق کے مطابق آسان فدیہ مقرر کر کے ان کی آزادی کا اعلان کر دیا۔جو قیدی لکھنا جانتے تھے ان پر صرف یہ فدیہ عائد کیا گیا کہ وہ دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔یہ بھی آنحضور ﷺ کی طرف سے ایک احسان تھا ورنہ اس زمانہ میں قیدیوں سے مفت خدمت لی جاتی تھی۔2 کے متفرق اہم واقعات 2ھ میں غزوہ بدر سے پہلے تحویل قبلہ کا واقعہ ہوا۔ابتدائی مکی دور میں فرضیت نماز کے بعد رسول کریمی خانہ کعبہ کی طرف اس طرح منہ کر کے نماز پڑھتے تھے کہ بیت المقدس بھی سامنے رہتا تھا۔مدینہ میں (جو خانہ کعبہ اور بیت المقدس کے درمیان واقع ہے یہ ممکن نہ تھا اس لئے شروع میں آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔سولہ سترہ ماہ بعد جب بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوا تو مسلمان بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے۔اسی سال رمضان المبارک کے مہینہ کے روزے بھی فرض ہوئے اور مسلمانوں نے یکم شوال کو عید الفطر کا دینی و معاشرتی تہوار منانا شروع کیا۔(طبری) 52 اسی سال حضرت عائشہ کی اپنے والد حضرت ابو بکر کے گھر سے رخصتی عمل میں آئی جن کا نکاح نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکی دور میں ہو چکا تھا۔مسلمان خواتین کی تعلیم و تربیت کے جس اعلیٰ مقصد کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا وہ اس شادی کے بعد بڑی شان سے پورا ہوا۔احادیث نبویہ کا ایک بڑا ذخیرہ حضرت عائشہ کی روایات پر مبنی ہے۔روحانی وجسمانی طہارت کے اعلی مقام اور ذہانت کی وجہ سےبھی حضور ﷺ کو آپ بہت عزیز تھیں آپ فرماتے تھے کہ مجھے سوائے عائشہ کے کسی بیوی کے لحاف میں وحی نازل نہیں ہوئی۔( بخاری ) 3 2ھ میں رسول کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء کی حضرت علی سے شادی خانہ آبادی بھی انجام پائی۔( ابن سعد ) 54 اسی سال یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کی طرف سے ”میثاق مدینہ کی بد عہدی کرنے پر جب انہیں