اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 347 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 347

اسوہ انسان کامل 347 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت صلى الله رسول اللہ ﷺ کا استقلال اور استقامت خدا تعالیٰ کے مامور اور فرستادے دنیا کے معزز اور شریف ترین انسان ہوتے ہیں، جن کی سچائی امانت ودیانت اور شرافت کا ایک زمانہ گواہ ہوتا ہے۔مگر جب وہ گمراہ معاشرے کو خدا کی طرف سے پیغام حق پہنچاتے اور نیکی وسچائی کی تعلیم دیتے ہیں تو بدی کے پرستار اور بدخواہ اہل دنیا ان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں، ان کا تمسخر اڑاتے اور اذیتیں دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے رویے پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وائے افسوس ان بندوں پر کہ جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے وہ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تمسخر کرنے لگتے ہیں۔“ (يس:31) نی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سلوک روارکھا گیا۔اللہ تعلی آپ کوتسلی کے رنگ میں فرماتا ہے۔تجھے صرف وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تجھ سے پہلے رسولوں سے کہی گئی تھیں“ (حم السجدة: 44) یعنی اُن کے ساتھ بھی اسی طرح کا تمسخر و استہزاء اور اسی قسم کے اعتراض کئے جاتے تھے۔مگر ان تمام اذیتوں پر آپ کو صبر اور استقامت کی تلقین کی گئی چنانچہ فرمایا۔تو اسی دین کی طرف لوگوں کو پکار اور استقلال سے قائم رہ جیسا تجھے کہا گیا ہے۔اور انکی خواہشوں کی پیروی نہ کر۔“ (سورۃ الشوری: 16) نیز فرمایا ”پس اے نبی ! تو بھی اسی طرح صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسول تجھ سے پہلے صبر کر چکے ہیں۔“ (سورۃ الاحقاف : 36) طعن و تشنیع پر استقلال۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں اپنی جانوں اور مالوں کے بارہ میں ضرور آزمایا جائے گا۔اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکوں سے بہت دکھ دینے والا کلام سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو گے تو یقینا یہ ہمت والے کاموں میں سے ہے۔“ (سورۃ آل عمران: 187 ) سلسلہ انبیاء کے سردار ہونے کے ناطے ہمارے آقا و مولا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ آزمائے گئے۔آپ نے زبانی اذیتیں بھی سن کر برداشت کیں اور جسمانی دکھ بھی ہے۔اور یہ تمام مصائب خدا کی راہ میں خوشی سے جھیلے۔کبھی ماتھے پر کوئی شکن یا زبان پر کوئی شکوہ نہیں لائے بلکہ بڑی شان اور وقار کے ساتھ اپنے مولیٰ کی راہ پر گامزن ا۔رہے اور اعلیٰ درجے کی استقامت کا نمونہ دکھلا دیا۔