اسوہء انسانِ کامل — Page 336
اسوہ انسان کامل 336 نی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی بیرونی وفود کی مہمان نوازی فتح مکہ کے بعد 9ھ کا سال عام الوفود " کہلاتا ہے اس سال کثرت سے مختلف علاقوں سے وفود مدینہ آئے اور ا سلام قبول کیا۔ان تمام وفود کے ساتھ نبی کریم اعزاز و اکرام سے پیش آتے اور ان کی مہمان نوازی کا اہتمام فرماتے۔چنانچہ وفد تجیب کو آپ نے خود خوش آمدید کہا۔باعزت رہائش کی جگہ مہیا فرمائی اور بلال کو حکم دیا کہ ان کے لئے ضیافت اور تحائف کا بہترین انتظام کرے۔(ابن الجوزی ) 16 ایک مشہور وفد بحرین سے آیا تھا جسے وفد عبد القیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔یہ ربیعہ قبیلہ کے لوگ تھے۔ربیعہ رسول اللہ کے جدا مجد مصر کا بھائی تھا۔آپس میں لڑائی کے باعث وہ ہجرت کر کے بحرین چلے گئے تھے۔نبی کریم کی مہمان نوازی کی عجب شان ہے کہ قدیمی دشمن قبائل بھی اس سے محروم نہیں رہے۔آپ نے پر تپاک استقبال کیا۔اس وفد کے ارکان بیان کیا کرتے تھے کہ ہم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ اور صحابہ کرام کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔جب ہم رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے تو وہ نہایت کشادہ دلی اور وسیع ظرفی سے ملے۔ہمیں رسول اللہ نے مرحبا اور خوش آمدید کہا۔پھر حضور نے ہم سے پوچھا تمہارا سردار کون ہے؟ ہم نے منذر بن عائد کی طرف اشارہ کیا۔آپ نے ہمارے سردار کو اپنے قرب میں جگہ دی۔اس سے بہت محبت اور لطف کا سلوک فرمایا۔حضور نے انصار مدینہ سے فرمایا کہ اپنے ان بھائیوں کا پورا اکرام کرنا کیونکہ مسلمان ہونے کے لحاظ سے ان کو اہل مدینہ سے ایک مناسبت اور مشابہت ہے کہ یہ لوگ بھی خوشی سے از خود مسلمان ہوئے ہیں۔جب صبح وفد کے لوگ حضور کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا تمہارے بھائیوں نے تمہارے اکرام اور ضیافت میں کوئی کسر تو اُٹھا نہیں رکھی۔وفد کے سب لوگوں نے بیک زبان یہی جواب دیا کہ یہ ہمارے بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے ہمارے لئے نرم بستر بچھائے اور نہایت عمدہ کھانے کا انتظام کیا اور صبح ہوئی تو ہمیں قرآن شریف اور سنتِ رسول کی باتیں بھی سکھانے لگے۔آنحضرت مہ کو انصار کا یہ سلوک بہت پسند آیا اور آپ نے اس پر خوشی کا اظہار فرمایا پھر آپ نے وفد کے ہر فرد سے جو جو دینی باتیں اس نے اپنے میزبان سے یاد کی تھیں خود سنیں اور خود بھی ان کو کئی باتیں سکھائیں۔(احمد ) 17 اہل بیت رسول کی مہمان نوازی حضرت لقیط بن صبرہ بیان کرتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کے ساتھ رسول اللہ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوا۔جب ہم نے حضور کے گھر اپنے آنے کی اطلاع کی تو آپ گھر میں موجود نہیں تھے۔حضرت ام المؤمنین عائشہ کو ہماری آمد کا پتہ چلا تو انہوں نے از خود ہمارے لئے کھانے کا انتظام کروایا۔گوشت اور موٹے آٹے کا ایک عرب کھانا پیش کیا گیا۔پھر ایک طشتری کھجور کی ہمارے لئے بھجوائی گئی۔اتنے میں رسول کریم تشریف لائے اور آتے ہی پہلے پوچھا کچھ کھایا پیا بھی ہے؟ ہم نے کہا جی ہاں اے اللہ کے رسول ! اسی دوران حضور کا چرواہا آ گیا۔اس کے پاس بکری کا