اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 333 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 333

333 نبی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی اسوہ انسان کامل کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ حضور آپ کے روزہ افطار کرنے کے لئے کچھ کھانا تیار کیا ہے۔حضرت عائشہ وہ کھانا ایک پلیٹ میں لے آئیں۔آنحضور نے اس میں سے تھوڑ اسالیا اور باقی ہم پانچوں کو دیا اور فرمایا کہ بسم اللہ کر کے کھاؤ۔حضرت عائشہ اور کھانا لے آئیں وہ بھی ہم نے کھالیا، آنحضور نے پھر حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کچھ پینے کو ہے۔انہوں نے عرض کی تھوڑ اسا دودھ آپ کے لئے رکھا تھا۔آپ نے فرمایا لے آؤ۔انہوں نے وہ پیش کیا۔حضور نے اس میں سے تھوڑا سا پیا باقی تبرک ہمیں دیکر فرمایا کہ بسم اللہ کر کے پیو۔ہم نے وہ بھی پی لیا اور ختم کر دیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا " اگر چاہو تو یہیں سو جاؤ۔چاہو تو مسجد چلے جاؤ۔چنانچہ ہم مسجد جا کر سو گئے۔صبح نماز سے قبل حضور تشریف لائے اور ہمیں نماز کے لئے جگانے لگے اور یہ آپ کا طریق تھا کہ جب گھر سے نماز کیلئے تشریف لاتے تو نماز نماز“ کہہ کر سونیوالوں کو جگاتے جاتے تھے۔میں مسجد میں پیٹ کے بل سویا پڑا تھا۔مجھے احساس ہوا کہ کوئی آدمی پاؤں سے مجھے ہلا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس طرح سونا اچھا نہیں، میں نے دیکھا تو وہ آنحضرت سے تھے۔(احمد) 11 فاقہ کشوں کی مہمان نوازی حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ فاقہ کے باوجود حضور کی باتیں سننے کی خاطر در رسول پر ہمہ وقت حاضر رہتے تھے۔ایک دفعہ بھوک کی حالت میں از راہ تحریک و توجہ ایک آیت کے معنی حضرت ابو بکر و عمر سے پوچھے جس میں مسکین کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے۔وہ معنی بتا کر چلے گئے۔پھر رسول اللہ تشریف لائے۔قبل اس کے کہ ابو ہریرہ کوئی سوال کرتے آپ نے ان کا چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ فاقہ سے ہیں۔پوچھا ابوھریرہ کیا بھوک لگی ہے؟ پھر مجھے ساتھ گھر لے گئے جہاں دودھ کا ایک پیالہ میٹر آگیا۔رسول کریم کو اصحاب صفہ کے دیگر مساکین بھی بہت عزیز تھے۔ابوھریرہ سے کہا کہ ان کو بلالا ؤ۔اب ابوھریرہ کو یہ دھڑکا لگا کہ دودھ کا پیالہ کہیں ختم نہ ہو جائے۔اس پر طرہ یہ کہ جب وہ مسکین صحابہ آگئے تو حضور نے دودھ کا پیالہ ابوھریرہ کو دیکر کہا کہ ان کو پلاؤ۔سب سیر ہو چکے تو ابوھریرکا سے فرمایا اب خود پیو، وہ پی چکے تو فرمایا اور پواور پیو یہاں تک کہ ابوھریرہ سیر ہو گئے اور عرض کیا کہ اب تو میری انگلیوں کے پوروں سے بھی دودھ نکلنے کو ہے۔تب رسول خدا نے دودھ کا پیالہ ابوھریرہ سے لے کر اپنے منہ سے لگایا اور سب کا باقی ماندہ دودھ پیا اور یوں اپنے صحابہ کو مہمان نوازی کا خوبصورت نمونہ دیا۔( بخاری )12 حضرت مقداد ایک غریب اور مفلوک الحال صحابی رسول تھے، انہوں نے رسول کریم کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے اپنا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جس کی تفصیل دعاؤں کی قبولیت کے مضمون میں آچکی ہے۔کہ وہ اور ان کے دو ساتھی بھوک اور فاقوں سے ایسے بدحال ہوئے کہ سماعت و بصارت بھی متاثر ہوگئی محتاجی کے اس عالم میں انہوں نے اصحاب رسول سے مدد چاہی مگر کوئی بھی ہمیں مہمان بنا کر نہ لے جاسکا۔بالآخر رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بد حالی کا ذکر کیا۔آپ نے کمال کشادہ دلی سے انہیں اپنا مستقل مہمان رکھ لیا۔اور اپنے گھر لے گئے۔وہاں تین بکریاں