اسوہء انسانِ کامل — Page 331
331 اسوہ انسان کامل نبی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔پس نہ آپ مہمان بن کر تکلف کرتے تھے ،نہ میزبان ہو کر کبھی آپ نے تکلف سے کام لیا۔اسی طرح مہمان نوازی کے عوض آپ گوئی صلہ نہیں چاہتے تھے جیسا کہ قرآن شریف میں مومنوں کی یہ شان بیان ہوئی ہے جن کے آپ سردار تھے کہ وہ اللہ کی محبت میں مسکینوں یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم محض خدا کی رضا کی خاطر ایسا کرتے ہیں ہمیں کسی بدلے بلکہ شکریہ تک کی حاجت نہیں۔(سورۃ الدھر: 10) مہمان نوازی اور دعوت الی اللہ نبی کریم نے دین اسلام کی دعوت کا آغاز ہی بے لوث مہمان نوازی اور جذبہ خدمت خلق کے تحت فرمایا۔جب آپ نے کوہ صفا پر رشتہ داروں کو پیغام حق پہنچایا اور وہ انکار کر کے چلے گئے تو آپ نے مہمان نوازی کے ذریعہ انہیں اکٹھا کرنا چاہا۔حضرت علی کو کھانے کی دعوت کا انتظام کرنے کی ہدایت فرمائی جس میں بکری کے پائے تیار کروائے۔آپ کے عزیز واقارب میں سے چالیس مہمان آئے اور سب نے سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر انہیں دودھ پلایا گیا۔کھانے کے بعد رسول کریم ﷺ نے گفتگو کرنا چاہی تو ابو لہب یہ کہتا ہوا اٹھ کر چلا گیا کہ تمہارے ساتھی نے تم پر جادو کر رکھا ہے اس پر لوگ بھی اُٹھ کر چلے گئے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ اگلے روز رسول کریم نے ایک اور دعوت کا اہتمام کرنے کی ہدایت فرمائی۔دعوت میں حضور نے خاندان بنی مطلب کو خطاب فرمایا کہ میں تمہارے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں کون میرا مددگار ہو گا ؟ اس پر حضرت علیؓ نے مدد کی حامی بھری۔یہ پہلا پھل تھا جو اس مہمان نوازی اور دعوت کے بعد آپ کو نصیب ہوا۔(طبری )5 اکرام ضیف کا خلق تالیف قلب اور دعوت الی اللہ کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو بسا اوقات انسان کی ہدایت کا موجب بن جاتا ہے۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک کا فرمہمان ٹھہرا۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ دودھ پلا کر اس کی خاطر تواضع کی جائے ، دودھ پیش کیا گیا۔اس نے ایک بکری کا دودھ پی لیا۔پھر دوسری کا دودھ دہو کر اسے پلایا گیا وہ بھی پی گیا پھر تیسری اور چوتھی بکری کا۔یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ اسے پلایا گیا تب کہیں اس کا پیٹ بھرا۔وہ آنحضرت سے کی اس بے تکلف مہمان نوازی اور حسن سلوک سے اتنا متاثر ہوا کہ اگلے دن اس نے اسلام قبول کر لیا۔حضور نے دوسرے روز پھر اس کیلئے دودھ لانے کا حکم دیا۔اس روز ایک بکری کا دودھ تو اُس نے پی لیا لیکن دوسری بکری کا سارا دودھ نہ پی سکا بلکہ اس میں سے کچھ بچ رہا۔آنحضرت ﷺ نے ایمان کی برکت وطمانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافرسات آنتوں میں۔( ترمذی ) 6 مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مسلمان کو ایمان کی دولت کے ساتھ صبر وحوصلہ اور قناعت کی دولت بھی عطا فرماتا ہے۔