اسوہء انسانِ کامل — Page 330
اسوہ انسان کامل 330 نی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی نبی کریم ع کا خُلق ، مہمان نوازی اسلام میں مہمان نوازی کی حسین تعلیم اسلام کی تعلیم میں مہمان نوازی کو ایک بنیادی وصف اور اعلیٰ خلق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔دیگر اقوام اور مذاہب عالم کے بالمقابل مہمان نوازی کی اسلامی تعلیم بھی اپنی تفاصیل کے ساتھ نہایت اعلیٰ اور ارفع ہے۔اسلام سے قبل عربوں میں بھی مہمان نوازی کا دستور تھا مگر بالعموم اس سے شہرت اور دکھاوا مقصود ہوتا کیونکہ اچھے مہمان نواز کو عرب شاعر آسمان شہرت کا ستارہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔قرآن شریف میں اجنبی مسافر سے بھی احسان کی تعلیم دی گئی ہے۔آنحضرت نے بھی اکرام ضیف کا تاکیدی ارشاد فرمایا کہ مہمان کی عزت اور اس کا حقیقی احترام کیا جائے۔کھانا پیش کرنا تو مہمان نوازی کا ایک پہلو ہے۔اسلام نے مہمان کے قیام و طعام کے بندوبست کے ساتھ اس کے جذبات کا خیال رکھنے ، اس کی ادنی ادنی ضروریات کی دیکھ بھال، اس کی بے لوث خدمت اور خاطر تواضع ، اس کے لئے ایثار اور قربانی کے جذبہ کی تعلیم دی ہے۔نیز خود بھوکا رہ کر مہمان کو سیر کر کے خوش ہونے نیز بلا تکلف اور بغیر کسی طمع ، صلہ اور ستائش کی تمنا کے مہمان کی ضروریات خوش دلی اور خندہ پیشانی سے پوری کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ہمارے آقا اور سید و مولیٰ نے مہمان نوازی کو ایمان کی علامت ٹھہرایا ہے اور حق یہ ہے سب سے بڑھ کر یہ خلق آپ کے اندر پایا جاتا تھا کہ اول المؤمنین جو تھے۔آپ نے ہمیں مہمان نوازی کے آداب بھی سکھائے۔فرمایا تین دن تک مہمان نوازی مہمان کا حق ہے۔(ابن ماجہ ) آپ مہمان کے ساتھ آخر تک کھانے میں شریک رہنے کی تلقین فرماتے تھے تا کہ اسے کسی قسم کی خجالت و ندامت نہ ہو کہ وہ اکیلا کھا رہا ہے۔(ابن ماجہ (2) آپ نے مہمان کو الوداع کرتے ہوئے مہمان کی عزت کی خاطر اس کے ساتھ گھر کے دروازے تک تشریف لے جا کر ایک اعلیٰ نمونہ قائم فرمایا۔(ابن ماجہ ) 3 الغرض آنحضرت ﷺ کی سیرت اکرام ضیف اور مہمان نوازی کے لحاظ سے نہایت خوبصورت نمونے پیش کرتی ہے۔ابتدا ہی سے یہ اعلیٰ وصف آپ کے اخلاق حمیدہ کا لازمی جزو تھا۔چنانچہ پہلی وحی کے موقع پر حضرت خدیجہ نے آپ کو حوصلہ دلاتے ہوئے بے ساختہ جن تاثرات کا اظہار آپ کے بارے میں کیا اس میں یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا آپ تو مہمان نوازی کرتے ہیں اور حقیقی مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔( بخاری )4 مہمان نوازی کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کا یہ پہلو بھی نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حکماً آپ سے کہلو اياقُلْ مَا اسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَّ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (سورۃ ص : 87) کہ تو کہہ دے میں تم