اسوہء انسانِ کامل — Page 326
اسوہ انسان کامل 326 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود وسخا تو آپ نے منع فرما دیا اور انہیں حکم دیا کہ اسے قرض بھی ادا کریں اور کچھ زیادہ بھی دے دیں۔آپ کا یہ حلم دیکھ کر اس شخص نے اسلام قبول کر لیا۔( حاکم ) 59 عطاء نبوی کی نرالی شان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا اور بخشش کی ایک نرالی شان جو اور کہیں نظر نہیں آتی یہ ہے کہ آپ کی عطا کے سلسلے آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہے جس کی ایک مثال جابر بن عبداللہ کا یہ واقعہ ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین سے مال یا تو میں آپ کو ایسے ایسے اور ایسے دوں گا (یعنی بہت دوں گا )۔نبی کریم ﷺ بحرین کا مال آنے سے پہلے ہی وفات پاگئے۔حضرت ابو بکر کے زمانہ میں وہ مال یا تو انہوں نے اعلان کروایا کہ کسی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ قرض یا وعدہ ہو تو وہ آکر لے لے۔حضرت جابر نے عرض کیا کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بحرین آنے پر اس اس طرح دینے کا وعدہ فرمایا تھا۔حضرت ابوبکر نے دونوں ہاتھ بھر کر مجھے درہم عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ اب ان کو شمار کرو، وہ پانچ سو درہم نکلے۔آپ نے فرمایا اس سے دگنے ( یعنی ایک ہزار ) مزید لے لو، تا کہ رسول اللہ کا وعدہ تین مرتبہ دینے کا پورا ہو جائے۔(مسلم) 60 آخری پونجی بھی صدقہ کر دی حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سات دینار حضرت عائشہ کے پاس رکھوائے ہوئے تھے۔آخری بیماری میں فرمایا کہ اے عائشہ! وہ سونا جو تمہارے پاس تھا وہ کیا ہوا ؟ عرض کیا میرے پاس ہے۔فرمایا صدقہ کر دو۔پھر آپ پر غشی طاری ہوگئی اور حضرت عائشہ آپ کے ساتھ مصروف ہو گئیں۔جب ہوش آئی تو پھر پوچھا کہ کیا وہ سونا صدقہ کر دیا ؟ عرض کی ، ابھی نہیں کیا۔آنحضور نے تین بار دریافت فرمایا اور پھر ہوش آنے پر آپ نے وہ دینار منگوا کر ہاتھ پر رکھ کر گئے اور فرمایا محمد کا اپنے رب پر کیا گمان ہوا اگر خدا سے ملاقات اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت یہ دینا ر اس کے پاس ہوں۔پھر وہ دینار حضرت علی کو دئے تا کہ وہ انہیں صدقہ کر دیں اور اسی روز آپ کی وفات ہوگئی۔( بیشمی ) 61 الغرض رسول اللہ کے جو دو ستا پر مولانا روم کا وہی شعر صادق آتا ہے کہ بہر ایں خاتم شد است او که بجود مثل او نے بُو د نے خوا ہند بود کہ رسول اللہ اس لئے خاتم ٹھہرے کہ مثلاً سخاوت میں نہ آپ جیسا کوئی ہوا، نہ ہوگا۔