اسوہء انسانِ کامل — Page 323
323 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود وسخا اسوہ انسان کامل آزاد کر دیا جائے اور وعدہ فرمایا کہ جو شخص اپنے غلام کے عوض آئندہ اپنا حق لینا چاہے وہ اسے ادا کر دیا جائے گا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر تمام مسلمانوں نے بخوشی ان چھ ہزار غلاموں کو آزاد کر دیا۔( بخاری )47 غلاموں کی آزادی کا وہ نظارہ بھی کیا عجیب ہو گا۔جب وہ آزاد ہو کر گلیوں میں دوڑتے پھرتے ہوں گے۔حاتم طائی کی سخاوت عرب میں ضرب المثل تھی۔مگر ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کا عرب کے اس سب سے بڑے بھی پر بھی احسان ہے۔فتح حنین کے بعد جب حاتم کے قبیلہ کے قیدی رسول کریم کی خدمت میں پیش ہوئے تو ان میں ایک بہت حسین و جمیل اور خوبصورت دوشیزہ بھی تھی۔راوی کہتا ہے کہ اسے دیکھتے ہی انسان اس پر فریفتہ ہوتا تھا میں نے دل میں سوچا کہ رسول کریم سے عرض کرونگا کہ یہ مجھے عطا فرما دیں مگر جب اس لڑکی نے رسول کریم سے گفتگو کی تو حسن و جمال سے کہیں بڑھ کر اس کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔اس نے کہا اے محمد ! آپ ہمیں آزاد کر دیں تاقید کی ذلت ہمارے دشمن قبائل کے لئے موجب شماتت نہ ہو۔خود میرا باپ دوسروں کی پناہ کا بہت احترام کرتا تھا۔قیدیوں کو آزاد کرتا تھا۔بھوکے کو کھانا کھلاتا تھا۔ننگے کو لباس مہیا کرتا تھا، مہمان کی مہمان نوازی کرتا اور کھانا کھلاتا تھا۔سلام کو عام کرتا تھا اور کسی ضرورت مند کو خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹا تا تھا۔میرے اس عظیم باپ کا نام حاتم طائی تھا۔نبی کریم نے فرمایا اے لڑکی! یہ تمام خوبیاں جو تم نے بیان کیں ایک سچے مومن میں پائی جاتی ہیں۔کاش تمہارا باپ ہمارا زمانہ پا کر اسلام قبول کرنے کی توفیق پاتا۔ہم اس سے محبت والفت سے پیش آتے اور اس پر بہت لطف و کرم کرتے پھر آپ نے فرمایا اس لڑکی کو آزاد کر دو۔یہ اس باپ کی بیٹی ہے جو اعلیٰ اخلاق پسند کرتا تھا اور خدا کو بھی عمدہ اخلاق بہت پسند ہیں۔ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا خدا بھی اعلیٰ اخلاق پسند کرتا ہے؟ رسول کریم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنت بھی حسن خلق سے ملتی ہے۔(بیہقی ) 48 عرب قبائل کے قبول اسلام میں ایک روک مکہ ومدینہ کے درمیان جنگ تھی۔وہ انتظار میں تھے کہ دیکھیں فتح کس کو ہوتی ہے؟ فتح مکہ کے بعد یہ قبائل دھڑا دھڑ وفود کی صورت میں مدینہ آکر اسلام قبول کرنے لگے۔اس لئے 9ھ کا سال عام الوفود بن گیا۔یہ وفود بھی نبی کریم اللہ کے جو دو سخا اور انعام واکرام سے فیضیاب ہوتے رہے۔9ھ وفد تجیب مدینے آیا یہ تیرہ افراد تھے جو مال زکوۃ بھی ساتھ لائے تھے۔رسول کریم ان کی آمد سے بہت خوش ہوئے۔آپ نے انکو خوش آمدید کہا اور باعزت رہائش کی جگہ انہیں مہیا فرمائی اور بلال کو حکم دیا کہ ان کے لئے ضیافت اور تحائف کا بہترین انتظام کرے۔اور ان لوگوں کو آپ نے اس سے کہیں زیادہ عطا فر مایا جو آپ بالعموم وفود کو انعام واکرام سے نوازتے تھے۔اس کے بعد پوچھا آپ میں سے کوئی انعام لینے سے محروم تو نہیں رہ گیا۔انہوں نے کہا ہمارا ایک کم سن بچہ پیچھے خیمہ میں ہے۔فرمایا اُسے بھی لاؤ۔وہ آیا تو کہنے لگا کہ میں بنی ابزئی میں سے ہوں اور میرے قبیلے کے لوگوں کی مرادیں آپ نے پوری فرمائی ہیں میری حاجت بھی پوری کریں۔رسول اللہ نے فرمایا۔اپنی حاجت بیان کرو۔کہنے لگا۔اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور میرے دل میں غنا پیدا کر دے۔آپ نے اسی وقت یہ