اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 313 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 313

اسوہ انسان کامل 313 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا رسول کریم نے اپنے اصحاب کو سمجھایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں کس طرح برکت عطا کی جاتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ ایک شخص جنگل میں جارہا تھا اس نے ایک بادل میں سے یہ آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو جا کر سیراب کرو۔وہ بادل ایک طرف ہٹ کر ایک میدان پر برسا جہاں سے ایک نالے میں بہنے لگا وہ شخص اس نالے کے ساتھ چلتا ہوا اس باغ تک جا پہنچا جہاں ایک شخص باغ میں کھیتوں کو پانی لگارہا تھا۔اس نے اس کا نام پوچھا تو یہ وہی نام تھا جو اس نے بادل سے سنا تھا پھر اس نے پوچھا اے اللہ کے بندے! تو مجھ سے نام کیوں پوچھتا ہے؟ وہ بولا میں نے بادل میں یہ آواز سنی تھی۔کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔اب آپ بتاؤ کہ اس باغ سے کیا کیا کرتے ہو؟ وہ کہنے لگا اب تم نے پوچھ ہی لیا ہے تو سنو اس کی پیداوار سے میں تیسرا حصہ صدقہ کر دیتا ہوں۔تیسرا حصہ اپنے اور اہل وعیال کے لئے رکھتا ہوں اور تیسر ا پھر اسی کھیت کے پیج وغیرہ کے لئے رکھ چھوڑتا ہوں۔(مسلم )12 آداب انفاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاق فی سبیل اللہ کے آداب بھی اپنے صحابہ کو سکھائے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت دکھاوے یا ریاء سے کام نہیں لینا چاہئے۔جو شخص ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا یعنی اسے شہرت اور مقبولیت تو حاصل ہو جائے گی مگر اجر سے محروم ہوگا اور خدا کی رضانہ پاسکے گا۔( بخاری) 13 راز داری سے صدقہ دینے والے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” قیامت کے روز جب خدا کی پناہ اور سائے کے سوا کسی کی پناہ کوئی کام نہ دے گی تو وہ صدقہ دینے والا خدا کی پناہ میں ہوگا، جس نے اتنی راز داری سے دائیں ہاتھ سے صدقہ دیا کہ بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہوئی۔“ (یعنی اس نے مکمل راز داری سے کام لیا )۔( بخاری ) 14 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انفاق فی سبیل اللہ کی ترجیحات بھی بیان فرما ئیں۔اسی کے مطابق آپ خود بھی خرچ فرماتے تھے۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ”بہترین مال وہ ہے جو ایک شخص اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، پھر وہ مال جسے وہ اللہ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے، پھر وہ مال جسے وہ اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔( مسلم )15 آپ نے فرمایا کہ ایک مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ بھی اس کے حق میں صدقہ ( یعنی مالی قربانی) شمار ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اگر وہ ایک لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے تو وہ بھی اس کے حق میں نیکی شمار ہوتی ہے۔“ ( بخاری ) 16 اسی طرح فرماتے تھے کہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا ثواب زیادہ ہوتا ہے بلکہ دوہرا ثواب ہوتا ہے۔صدقہ کا ثواب الگ اور قرابت داری کا حق ادا کرنے کا اجر الگ۔چنانچہ آپ نے بیوی کو خاوند پر صدقہ کرنے اور