اسوہء انسانِ کامل — Page 302
302 آنحضرت سے بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل جو ساحل سمندر کے پاس تین سو سال تک عبادت کرتا رہا وہ دن کو روزے رکھتا اور رات کو قیام کرتا۔پھر اس نے خدائے عظیم و برتر کا انکار ایک عورت کے سبب سے کر دیا جس کے عشق میں وہ مبتلا ہوگیا اور عبادت کو ترک کر دیا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی نیکی کی وجہ سے اسے ضائع ہونے سے بچالیا اور اسے تو بہ کی توفیق مل گئی۔اے عکاف تم شادی کرلور نہ تمہاری حالت بھی شک و شبہ والی ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ آپ ہی میری شادی کرا دیں۔آپ نے فرمایا اچھا میں کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تمہاری شادی تجویز کرتا ہوں۔( احمد ) 56 امر بالمعروف و نہی عن المنکر رسول کریم کوئی نا مناسب بات دیکھتے تو حتی الوسع اُسے روکنے کی سعی فرماتے تھے اور جیسا کہ آپ کا ارشاد تھا کہ اگر برائی کو ہاتھ سے روک سکتے ہو تو روکو۔اس کی توفیق نہ ہوتو پھر زبان سے نصیحت کرو ورنہ کم سے کم دل سے روکو یعنی خود بھی اسے برا سمجھو اور اس کے لئے دعا کرو۔(ترندی) 57 حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ اللہ کے چازاد حضرت فضل بن عباس رسول اللہ کی سواری کے پیچھے بیٹھے تھے۔خشم قبیلہ کی ایک عورت کوئی مسئلہ دریافت کرنے آئی۔فضل اس کی طرف اور وہ عورت ان کی طرف دیکھنے لگی۔نبی کریم نے فضل کی گردن پکڑ کر ان کے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ دیا۔( بخاری ) 58 لیکن جہاں ہاتھ سے روکنا پسندیدہ نہ ہو وہاں رسول کریم نصیحت فرما کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہو جاتے تھے۔وفات وغیرہ کے موقع پر نبی کریم بین یاواویلا کرنے سے منع فرماتے تھے لیکن چونکہ غم کی حالت میں جذبات پر انسان بعض دفعہ بے اختیار اور مغلوب ہو جاتا ہے اسلئے اس پہلو سے شفقت کا دامن جھکا کے رکھتے تھے۔چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر طیار کی غزوہ موتہ میں شہادت کے موقع پر خود رسول اللہ کو سخت صدمہ تھا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ مسجد میں تشریف فرما تھے اور چہرہ سے غم کے آثار صاف عیاں تھے۔میں دروازے کی درز سے دیکھ رہی تھی۔ایک شخص نے آکر کہا کہ جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں۔آپ نے فرمایا انہیں منع کرو۔وہ گیا اور تھوڑی دیر میں واپس آکر کہنے لگا کہ وہ میری بات تو نہیں مانتیں۔آپ نے فرمایا دوبارہ انہیں جا کر منع کرو۔تیسری دفعہ اس نے آکر پھر کہا کہ وہ تو ہم پر غالب آگئی ہیں یعنی کہنا نہیں مانتیں۔آپ نے فرمایا ان کے مونہوں پر مٹی پھینکو یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے دل میں کہا اللہ تمہیں رسوا کرے رسول اللہ نے تمہیں جو حکم دیا ہے وہ تو تم کر نہیں سکے پھر رسول اللہ کو تکلیف دینے سے بھی باز نہیں آتے ہو۔( بخاری ) 59 ایک دفعہ آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ بعض لوگ خواتین کو رات کے وقت نماز با جماعت کے لئے مسجد آنے سے روکتے ہیں تو آپ نے مردوں کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی لونڈیوں کو خدا کے گھروں میں آنے سے مت روکو۔(ابوداؤد )60