اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 297 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 297

297 ،، آنحضرت له بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل لگی۔حضور نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔پھر ایک بد و آیا۔وہ بھی کھانے میں ہاتھ ڈالنے لگا۔رسول کریم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔آپ نے فرمایا کہ شیطان کھانے کو حلال کر لیتا ہے اگر اس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے۔یہ عورت شیطان کے لئے کھانے کو حلال کرنے آئی تو میں نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔اسی طرح یہ بت بھی ”بسم اللہ “ پڑھے بغیر شیطان کے لئے کھانا حلال کرنا چاہتا تھا۔میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا۔اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اب ان دونوں کے ہاتھ میرے ہاتھ کے ساتھ کھانے میں اکٹھے جائیں گے۔یعنی ہم اکٹھے کھانا شروع کریں گے اور اس میں شریک ہونگے۔پھر آپ نے اللہ کا نام لے کر کھانا شروع فرمایا۔(مسلم )40 بعض دفعہ نیکی کے رستہ سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر بھی گہری نظر ہوتی تھی اور موقع محل کے مطابق نیکی کی تحریک و تلقین فرماتے تھے۔اگر کسی نے بوڑھے والدین کی خدمت چھوڑ کر جہاد پر جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے روک دیا اور فرمایا ماں باپ کی خدمت ہی تمہارا جہاد ہے۔جہاں نماز میں کمزوری دیکھی وہاں سمجھایا کہ افضل عمل وقت پر نماز کی ادائیگی ہے۔رسول کریم جہاں بھی نیکی ہیں ریاء یا تکلف کا شائبہ بھی محسوس کرتے اس سے منع فرما دیتے۔ایک بدوی مدینے آیا۔( بدوی عام طور پر شہروں میں ٹھہر انہیں کرتے بلکہ سوائے ضرورت کے شہروں میں داخل ہی نہیں ہوتے ) معلوم ہوتا ہے اس بدوی نے فتح مکہ کے پہلے زمانہ میں سن رکھا تھا کہ رسول اللہ ہجرت پر بیعت لیتے ہیں۔اس نے ہجرت پر بیعت کرنے کے بارہ میں آنحضور سے درخواست کی کہ میں مدینہ ٹھہروں گا۔حضور نے اُس پر شفقت کرتے ہوئے فرمایا۔تیرا بھلا ہو ہجرت بڑا کٹھن کام ہے۔( آپ بھانپ گئے کہ یہ شخص اپنی بد و یا نہ طبع کے باعث ہجرت پر قائم نہ رہ سکے گا۔) پھر آپ نے فرمایا یہ بتاؤ کیا تمہارے اونٹ ہیں جن کی زکوۃ تم ادا کر سکو اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا پھر بے شک پہاڑوں کے پیچھے رہ کر بھی کام کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔(بخاری) 41 نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کا دستور تھا کسی شخص کی شکایت آپ کو پہنچتی تو آپ تصیحت کے لئے کمر بستہ ہو جاتے تھے خواہ وہ کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو مگر اس کے لئے ہمیشہ مناسب موقع محل اور ماحول کا لحاظ ر کھتے تھے۔حرمت شراب سے پہلے کا واقعہ ہے ایک دفعہ شراب کے نشہ میں بعض لوگ حضرت علی کی ایک اونٹنی کو نقصان پہنچا بیٹھے۔ان میں آپ کے عزیز چچا حضرت حمزہ بھی تھے۔نبی کریم کو اس کی خبر ہوئی تو فورا موقع پر پہنچے۔مگر جب دیکھا کہ ابھی ان کا نشہ اتر انہیں تو آپ نے اس موقع پر نصیحت کرنی مناسب نہیں سمجھی اور فوراً الٹے پاؤں واپس تشریف لے آئے۔( بخاری )42 ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں پڑاؤ پر ایک جگہ ہجوم دیکھا جس میں ایک شخص پر سایہ کیا جارہا تھا۔آپ نے استفسار فرمایا کیا بات ہے؟ بتایا گیا کہ روزے دار ہیں۔آپ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔( بخاری )43