اسوہء انسانِ کامل — Page 293
اسوہ انسان کامل 293 آنحضرت الله بحیثیت معلم و مربی اعظم طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اس طرح نماز پڑھنا۔نماز سے پہلے تم میں سے کوئی اذان کہہ دے اور جو بڑا ہو وہ امامت کروادے۔(بخاری)25 مخاطب کو نصیحت سے قائل کرنا نبی کریم تربیتی نصائح میں دلیل سے قائل کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور زیر تربیت لوگوں کے لئے دعا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک نوجوان نے عجیب سوال کر ڈالا کہ یا رسول اللہ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے۔لوگوں نے اسے لعنت ملامت کی کہ کیسی نامناسب بات کر دی اور اسے روکنے لگے۔نبی کریم سمجھ گئے کہ اس نوجوان نے گناہ کا ارتکاب کرنے کی بیجائے جو اجازت مانگی ہے تو اس میں سعادت کا کوئی شائبہ ضرور باقی ہے۔آپ نے کمال شفقت سے اسے اپنے پاس بلایا اور فرمایا پہلے یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں اپنی ماں کے لئے زنا پسند ہے؟ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم ! ہرگز نہیں۔آپ نے فرمایا اسی طرح باقی لوگ بھی اپنی ماؤں کے لئے زنا پسند نہیں کرتے۔آپ نے دوسرا سوال یہ فرمایا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے لئے بدکاری پسند کرو گے؟ اس نے کہا خدا کی قسم! ہر گز نہیں۔آپ نے فرمایا لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے یہ پسند نہیں کرتے۔پھر آپ نے فرمایا کیا تم اپنی بہن سے بدکاری پسند کرتے ہو؟ اس نے پھر اسی شدت سے نفی میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے یہ پسند نہیں کرتے۔پھر آپ نے بدکاری کی شناعت خوب کھو لنے کیلئے فرمایا کہ تم پھوپھی اور خالہ سے زنا پسند کرو گے؟ اس نے کہا خدا کی قسم ہرگز نہیں۔آپ نے فرمایا لوگ بھی اپنی پھوپھیوں اور خالاؤں کے لئے بدکاری پسند نہیں کرتے۔مقصود یہ تھا کہ جو بات تمہیں اپنے عزیز ترین رشتوں میں گوارا نہیں۔وہ دوسرے لوگ کیسے گوارا کریں گے اور کوئی اس کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ پھر نبی کریم نے اس نوجوان پر دست شفقت رکھ کر دعا کی اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهِ وَطَهِّرْ قَلْبَهِ، وَ حَصَّنُ فَرْجَهِ اے اللہ اس نوجوان کی غلطی معاف کر۔اس کے دل کو پاک کر دے۔اسے باعصمت بنا دے۔اس نوجوان پر آپ کی اس عمدہ نصیحت کے ساتھ دعا کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ اس نے بدکاری کا خیال ہی دل سے نکال دیا اور پھر کبھی اس طرف اُس کا دھیان نہیں گیا۔(احمد (26) سبحان اللہ ! کیسا پیار کرنے والا مربی اعظم انسانیت کو عطا ہوا تھا۔ایک بدو نے آکر اپنی ضرورت سے متعلق سوال کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب حال جو میسر تھا عطا کر دیا۔وہ اس پر سخت چیں بجبیں ہوا اور رسول کریم کی شان میں بھی بے ادبی کے کچھ کلمات کہہ گیا۔صحابہ کرام نے سرزنش کرنا چاہی مگر رسول اللہ نے منع فرما دیا۔آپ اُس بدو کو اپنے ساتھ گھر لے گئے۔اُسے کھانا کھلایا اور مزید انعام واکرام سے نوازا۔پھر پوچھا کہ اب راضی ہو؟ وہ خوش ہوکر بولا میں کیا میرے قبیلے والے بھی آپ سے راضی اور خوش ہیں۔رسول کریم نے اُسے فرمایا کہ میرے صحابہ کے سامنے بھی جا کر یہ اظہار کر دینا کیونکہ تم نے ان کے سامنے سخت کلامی کر کے ان کی دل آزاری کی تھی۔چنانچہ اُس نے صحابہ کے سامنے بھی اپنی خوشی کا اظہار کر دیا۔تو نبی کریم نے صحابہ کو مخاطب کر سے فرمایا میری اور اس بد و کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کی ایک اونٹنی ہو وہ بدک کر بھاگ کھڑی ہو۔لوگ پیچھے