اسوہء انسانِ کامل — Page 279
اسوہ انسان کامل ۴۔وفد کندہ کی آمد 279 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ کندہ قبیلے کا ساٹھ افراد پر مشتمل وفدا اپنے سردار اشعث بن قیس کی سرکردگی میں حاضر خدمت ہوا۔انہوں نے یمن کے ریشمی جیسے پہن رکھے تھے۔انہوں نے کہا سنا ہے آپ گعنت ملامت سے منع کرتے ہیں۔رسول اللہ نے فرمایا میں بادشاہ نہیں ہوں، محمد بن عبد اللہ ہوں۔انہوں نے کہا ہم آپ کا نام لیکر نہیں پکاریں گے۔آپ نے فر مایا تم ابوالقاسم کہ لو۔انہوں نے کہا اے ابوالقاسم ! ہم نے اپنے دل میں ایک بات رکھی ہے۔آپ یو جھو تو وہ کیا ہے؟ رسول اللہ نے فرمایا اللہ پاک ہے یہ کام تو کاہنوں کا ہے اور کہانت کرنے والا جہنمی ہے۔انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں کیسے پتہ لگے کہ آپ رسول ہیں۔آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مجھ پر ایسی عظیم الشان کتاب اتاری ہے کہ جھوٹ نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں اس میں سے کچھ سُنائیے۔رسول اللہ نے سورۃ صافات کی تلاوت شروع کی۔جب آپ اس کی چھٹی آیت رَبُّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ تک پہنچے تو خاموش ہو گئے اور بے حس وحرکت ہو کر رک گئے۔آنسوؤں کی ایک لڑی آپ کی آنکھوں سے داڑھی پر برس رہی تھی۔اس پر وفد کے لوگ کہنے لگے کیا آپ اپنے بھیجنے والے کے ڈر سے روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔مجھے اسی کا خوف رلاتا ہے جس نے مجھے صراط مستقیم پر بھیجا ہے جو تلوار کی دھار کی طرح سیدھی ہے۔اگر میں اس سے بھٹک گیا تو ہلاک ہو جاؤں گا۔پھر حضور نے اُن سے فرمایا کیا تم مسلمان نہیں ہو گے؟ انہوں نے کہا ضرور ہوں گے۔آپ نے فرمایا پھر یہ ریشمی جیتے کیونکر پہن رکھے ہیں؟ چنانچہ انہوں نے وہ جسے اتار پھینکے۔(الحلبیہ (79 ۵۔وفد همدان فروہ اور ہمدان قبائل کے درمیان جنگ ہو چکی تھی۔فروہ قبیلہ نے قبول اسلام میں پہل کی تو ہمدان کو طبعا وقتی روک پیدا ہوئی۔رسول اللہ نے خالد بن ولید کو فتح مکہ کے بعد دعوت اسلام کے لئے قبیلہ ہمدان کی طرف بھجوایا۔چھ ماہ کی کوششوں کے باوجود جب یہ اسلام نہیں لائے تو رسول اللہ نے بجائے حملہ کی اجازت کے حضرت علی کو بھجوایا کہ انہیں دوبارہ اسلام کی دعوت دیں۔حضرت علیؓ نے جا کر دعوت اسلام دی، انہیں قرآن سنایا اور سارے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا۔حضرت علی نے رسول اللہ کی خدمت میں ان کے قبول اسلام کی اطلاع کی۔رسول اللہ کا شوق تبلیغ ملاحظہ ہو آپ خط پڑھتے ہی فور سجدے میں گر گئے اور دو دفعہ فرمایا ہدان قبیلے پر سلامتی ہو۔پھر آپ نے اس قبیلہ کی تعریف اور حوصلہ افزائی فرمائی۔( الحلبیہ ( 80 ۶۔وفد نجیب تیرہ افراد پر مشتمل یہ وفد اپنے ساتھ اموال زکوۃ بھی لے کر آیا۔رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ مال اپنے غرباء