اسوہء انسانِ کامل — Page 273
اسوہ انسان کامل 273 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ دراصل یہودیوں کی سازش سے جھوٹی اور غلط اطلاعات کسری کو پہنچائی گئیں تھیں جن کی وجہ سے مشتعل ہو کر وہ پہلے ہی گورنر یمن باذان کو رسول اللہ کی گرفتاری کا ظالمانہ حکم دے چکا تھا چنانچہ کسری کے اہلکار رسول اللہ کے خط سے پہلے ہی آپ کی گرفتاری کے لئے مدینہ پہنچ گئے تھے۔(طبری) 65 جب یہ قاصد رسول اللہ و گر فتار کرنے کیلئے آئے تو آپ نے فرمایا کہ آج رات انتظار کرو کل جواب دیں گے اگلی صبح آپ نے فرمایا آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو قتل کر دیا ہے۔رسول اللہ کی یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔بعد میں پتہ چلا کہ اسی رات کسری کے بیٹے شیرویہ نے اپنے باپ کسری کوقتل کر دیا تھا۔چھ ماہ بعد وہ خود بھی زہر پینے سے ہلاک ہو گیا اور اس کی بہن حکمران ہوئی اور یوں حکومت ایران پارہ پارہ ہوکر رہ گئی۔( مجمع ) 66 قیصر شہنشاہ روم کو خط رسول اللہ کے صحابی حضرت دحیہ اسکمی کے ذریعہ حسب دستور حاکم بصری کے توسط سے یہ خط قیصر روم کو روانہ کیا گیا۔اس خط کو اللہ کے نام سے شروع کرتے ہوئے حضور نے شاہی آداب کے موافق قیصر کو عظیم الروم“ کے لقب سے خطاب فرمایا اور اسلام اور عیسائیت کی مشترک قدر توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے نیز ہدایت قبول کرنے والے کیلئے دعاؤں کے ساتھ خط کا آغاز فرمایا اور اسلام قبول کرنے کی صورت میں دوہرے اجر کی بشارت دی۔پہلا اجبر حضرت عیسی پر ایمان لانے کا اور دوسرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی صورت میں۔پھر اس تبشیر کے ساتھ انذار بھی فرمایا کہ انکار کی صورت میں رعایا کا گناہ بھی تم پر ہوگا۔شاہ روم ہرقل کی سعادت مندی تھی کہ اس نے رسول اللہ کا یہ خط بہت سنجیدہ نظر سے دیکھا۔عزت کے ساتھ سونے کی ایک ڈبیہ میں اُسے محفوظ کر کے رکھا۔مزید تحقیق کے لئے عربوں کے ایک وفد سے معلومات حاصل کیں جو ابوسفیان کی سرکردگی میں تجارت کے لئے شام گیا ہوا تھا۔پھر ابوسفیان سے کہا کہ تم نے میرے سوالوں کے جواب میں جو کچھ کہا ہے اگر وہ واقعی درست ہے تو وہ شخص ضرور میرے ملک پر غالب آئے گا۔اگر میرے لئے ممکن ہوتا تو میں ضرور اس کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اس کے پاؤں دھوتا۔مگر بعد میں جب ہر قل نے اپنی قوم کے سرداروں کے سامنے بڑی حکمت سے منصوبہ بندی کر کے آنحضرت کا دعویٰ پیش کیا تو انہوں نے سختی سے انکار کر دیا۔اس پر ہرقل ڈر گیا اور اسلام قبول کرنے کی جرات نہ کی۔( بخاری ) 67 رومی حاکم فروۃ بن عمر و جزامی کا قبول اسلام ایمان کی توفیق بھی انسان کی طبعی سعادت اور خدا کے فضل پر موقوف ہوتی ہے۔جہاں ہر قل نے ایک عظیم الشان حکومت کا شہنشاہ ہوتے ہوئے دنیا کو مقدم کیا اور ڈر گیا وہاں کسری کے ایک خدا ترس عامل فروہ کو جب اسلام کا پیغام پہنچا تو اس نے اسے قبول کر لیا۔فروہ عرب علاقوں کے لئے رومی حکومت کی طرف سے گورنر مقرر تھا۔رسول کریم نے اُس