اسوہء انسانِ کامل — Page 271
اسوہ انسان کامل 271 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ دوران انہیں دعوت اسلام دی اور فرمایا کہ اے یہود کی جماعت ! تم اسلام قبول کر لو امن میں آجاؤ گے۔( بخاری )60 نصاری کو تبلیغ سرزمین عرب میں موجود کوئی مذہب ایسا نہ تھا جس پر آنحضرت نے اتمام حجت نہ فرمائی ہو۔نجران کے عیسائیوں کو بھی آپ نے تبلیغ کی۔آغاز اسلام میں نجران میں چھوٹی سی خود مختار عیسائی ریاست قائم تھی جسے قیصر روم کی سر پرستی حاصل تھی۔اہل نجران کو رسول اللہ کے دعویٰ کی اطلاع مکی دور میں مہاجرین حبشہ کے ذریعہ ہو چکی تھی۔چنانچہ ان کا چوبیس افراد پر مشتمل پہلا وفد 10 نبوی میں سکے آیا۔انہوں نے رسول اللہ کی تبلیغ سن کر اسلام قبول کر لیا۔( کرامت )61 مدینہ آکر اہل نجران سے رابطہ رسول اللہ کے اس خط کے ذریعہ بحال ہوا جو آپ نے اُن کے مذہبی راہنمالارڈ بشپ کے نام لکھا جس میں آپ نے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے بعض مشترک قدروں کی طرف توجہ دلائی۔حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق“ اور حضرت یعقوب کے ادب و احترام کرنے کا ذکر کیا۔پھر خدائے واحد کی عبادت کی طرف بلاتے ہوئے دعوت دی کہ مسلمان ہو جائیں یا جزیہ دینا قبول کر لیں۔اس خط کے نتیجہ میں 2 ھ میں نجران کا ایک سہ رکنی وفد مدینے آیا جسے معاہدہ صلح کیلئے ایک عبارت تجویز کر کے دی گئی۔بعد میں 9ھ کے زمانہ میں ساٹھ رکنی وفد نجران آیا جس میں ان کے مذہبی اور سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔اس موقع پر بحث و تمحیص کے بعد اہل نجران کو مباہلہ کا چیلنج دیا گیا جو انہوں نے قبول نہیں کیا بلکہ معاہدہ صلح کی توثیق کر دی۔( بیہقی )62 مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نجران کے عیسائی رہنماؤں سے جو مدلل تبلیغی گفتگو رسول اللہ نے فرمائی اس کا مختصر ذکر کر دیا جائے۔رسول کریم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو وہ کہنے لگے ”ہم تو پہلے سے مسلمان ہیں۔یعنی دین حق پر قائم ہیں اور اللہ کے حکم کو مانے والے ہیں۔رسول کریم نے فرمایا " یہ بات درست نہیں خدا کا بیٹا تسلیم کرنے صلیب کی پرستش اور خنزیر کھانے جیسی خرابیوں میں پڑ جانے کے بعد تم اپنے آپ کو مسلمان اور دین حق پر قائم کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیونکہ یہ باتیں حضرت مسیح کی تعلیم نہیں۔انہوں نے بحث کا پہلو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عیسی" خدا کا بیٹا نہیں تو آپ بتائیں اس کا باپ کون ہے؟ اس سوال پر انہوں نے خوب بحث کی۔رسول کریم نے فرمایا کہ یہ تو تم جانتے ہو کہ کوئی بیٹا ایسا نہیں ہوتا جو باپ کے مشابہ نہ ہو۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔“ آپ نے فرمایا ” کیا تمہیں پتہ ہے ہمارا رب زندہ ہے۔اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اور یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر تمہارے عقیدہ کے مطابق بھی ایک دفعہ موت آچکی ہے کیونکہ تمہارے عقیدہ کے مطابق انہوں نے گناہوں کے کفارہ کے لئے موت کا پیالہ پیا؟ انہوں نے کہا ”ہاں یہ بھی درست ہے۔رسول اللہ نے فرمایا تمہیں پتہ ہے ہمارا رب ہر شے کا نگران ہے۔وہ ہر ایک کی حفاظت کرتا ہے اور اسے رزق بہم پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا ”ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔آپ نے فرمایا ”اچھا اب یہ بتاؤ کہ حضرت عیسی کو ان باتوں میں سے کس پر قدرت حاصل ہے؟ ( کہ اسے خدا کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اس کا بیٹا