اسوہء انسانِ کامل — Page 260
اسوہ انسان کامل سفر طائف 260 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ 10 سال نبوت میں شعب ابی طالب کی قید کا زمانہ ختم ہوا۔اُس کی سختیوں کی تاب نہ لا کر یکے بعد دیگرے ابوطالب اور حضرت خدیجہ کی وفات ہوگئی جس کے بعد اہل مکہ کی مخالفت نے زور پکڑ لیا۔ان کے انکار بالاصرار سے تنگ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے اسی سال شوال کے مہینہ میں تبلیغ کی خاطر طائف کا سفر اختیار فرمایا۔زید بن حارثہ اس سفر میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔نبی کریم نے قریباً دس روز وہاں قیام فرمایا اور طائف کے امراء وشرفاء تک پہنچ کر حق پہنچانے کی سعی فرمائی۔(ابن سعد ) 35 طائف مکہ سے جنوب مشرق میں چالیس میل کے فاصلے پر ایک پر فضا پہاڑی مقام ہے جو امراء ورؤساء کی آماجگاہ تھا۔طائف میں دیگر امراء کے علاوہ قبیلہ ثقیف کے تین سردار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔یہ تینوں بھائی کنانہ عبدیالیل ، مسعود اور حبیب تھے جن سے رسول اللہ کا نتھالی رشتہ بھی تھا۔نبی کریم نے ان کے پاس جا کر انہیں بھی دعوت اسلام دی اور قریش مکہ کی مخالفت کا ذکر کر کے ان سے مدد چاہی۔یہ سن کر ان میں سے ایک سردار کہنے لگا ”اگر تجھے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے تو وہ کعبہ کا پردہ چاک کر رہا ہے۔دوسرا بولا ” کیا تمہارے سوا اللہ کو کوئی رسول نہیں ملا تھا جسے وہ مبعوث کرتا۔“ تیسرے نے کہا ”خدا کی قسم ! میں تو تم سے بات کرنے کا بھی روادار نہیں ہوں۔اگر تو اپنے دعوی میں سچا ہے تو تیری بات رڈ کرنا خطرے سے خالی نہیں اور اگر تو اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہے تو میرے لئے تم سے گفتگو جائز نہیں۔بعد کے زمانہ میں اس تیسرے نے اسلام قبول کرلیا تھا مگر صحابیت کا شرف حاصل ہونے کے بارہ میں صراحت نہیں۔(ابن ہشام )36 نبی کریم نے دیگر اہل طائف کو پیغام حق پہنچانا چاہا تو اس پر بھی سردارانِ ثقیف کو اعتراض ہوا اور انہیں اندیشہ تھا کہ کہیں ہمارے نو جوان بہک نہ جائیں۔چنانچہ انہوں نے نبی کریم کو طائف سے نکل جانے کا حکم سنایا۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو میں خاموشی سے چلا جاتا ہوں تم اس کا اعلان نہ کرو۔مگر ان بد بختوں نے اپنے حکم کی تعمیل کے لئے بعض غلاموں ، لونڈوں اور بے وقوف بازاری لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جو گالیاں اور آپ پر آوازے کسنے لگے۔ایک بڑا مجمع آپ کے خلاف اکٹھا ہو گیا۔یہ لوگ راستہ میں دو قطاروں میں کھڑے ہو کر آپ پر پتھر برسانے لگے۔پتھروں کی اس بارش کی تاب نہ لا کر کبھی آپ بیٹھنے لگتے تو وہ ظالم بازوؤں سے پکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے اور پھر پتھر مارتے اور ہنسی اڑاتے۔حضرت زید بن حارثہ رسول اللہ کے آگے ڈھال بن کر آپ کو پتھروں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے مگر ایک بھرے ہوئے ہجوم کے سامنے بے چارے تنہا زیڈ کر بھی کیا سکتے تھے۔مسلسل کئی میل تک اس ہجوم نے آپ کا تعاقب کر کے پتھراؤ کیا جس سے رسول اللہ کی پنڈلیاں لہولہان اور جوتے خون سے لالہ رنگ ہو گئے اور زیڈ کے سر