اسوہء انسانِ کامل — Page 257
اسوہ انسان کامل 257 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ تمہیں پچھاڑ دوں تو میرے دعوی کی سچائی کا یقین کر لو گے۔“ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے اُسے کشتی میں مقابلہ کی دعوت دے دی۔اس نے یہ دعوت قبول کر لی۔نبی کریم نے اس بہادر پہلوان کو پچھاڑ دیا۔اس نے دوبارہ اور سہ بارہ مقابلہ کی خواہش کی ہر دفعہ نبی کریم نے اسے پچھاڑ دیا۔وہ کہنے لگا کہ میں حیران ہوں کہ آپ نے مجھے کیسے گرا لیا ہے؟ یہی واقعہ رکانہ کے قبول اسلام کا موجب بن گیا۔( بخاری ) 25 تبلیغ کی راہ میں مصائب مکہ میں تبلیغ عام کے زمانہ میں نبی کریم اور آپ کے صحابہ کو جو تکالیف اور اذیتیں برداشت کرنی پڑیں وہ ایک درد ناک اور المناک باب ہے۔اس دور کے صحابہ بلکہ خود نبی کریم نے بھی وہ کر بناک یادیں بہت کم بیان کی ہیں۔( ان مصائب کا تفصیلی ذکر صبر واستقامت کے زیر عنوان الگ آچکا ہے ) نبی کریم خود فرماتے تھے خدا کی راہ میں مجھے اتنی ایذاء پہنچائی گئی کہ کبھی کسی کو اتنی ایذاء نہیں دی گئی اور مجھے اللہ کی راہ میں اتنا ڈرایا گیا کہ کبھی کسی شخص کو اتنا خوفزدہ نہیں کیا گیا۔میرے پر تین تین دن اور راتیں ایسی آئیں کہ میرے اور میرے اہل وعیال کے لئے کھانے کی کوئی ایسی چیز موجود نہ ہوتی تھی جسے کوئی ذی روح کھا سکے سوائے اس معمولی کھانے یا کھجوروں کے جو بلال اپنی بغل میں دبائے پھرتا تھا۔( احمد ) 26 شعب ابی طالب کے زمانہ قید و بند میں تبلیغی حکمت عملی ہجرت حبشہ کے بعد جب قریش نے دیکھا کہ مسلمانوں کے پاؤں حبشہ میں جم گئے ہیں اور شاہ حبشہ نے انہیں پناہ دی ہے اور ادھر مکہ میں عمرؓ اور حمزہ جیسے جرات مند سردار اسلام کے آغوش میں آچکے ہیں۔اسلام پھیل رہا ہے اور ابو طالب اور ان کا قبیلہ بھی محمد کا حامی ہے۔تب انہوں نے متحدہ مخالفت کا آغاز کیا اور محرم سے سال نبوت میں مسلمانوں کے خلاف مکمل بائیکاٹ کرنے کا معاہدہ کر کے انہیں ایک گھاٹی میں محصور کر دیا۔مسلمانوں کے حامی بنو ہاشم اور بنو مطلب کے اکثر افراد خواہ مسلمان تھے یا کا فروہ بھی ساتھ محصور ہو گئے۔قریش نے فیصلہ کیا کہ جب تک محمدؐ کو ہمارے حوالہ نہ کیا جائے مسلمانوں اور ان کے حامیوں کے ساتھ شادی بیاہ ہوگا نہ خرید وفروخت۔حتی کہ ان کے ساتھ لین دین اور میل ملاپ بھی بند کر کے مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا۔بغرض توثیق مزید یہ معاہدہ خانہ کعبہ میں آویزاں کر دیا گیا۔(ابن ہشام )27 شعب ابی طالب کے زمانہ میں مسلمانوں کے روابط محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ان کا ایک رابطہ تو بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ان افراد سے تھا جو قبائلی حمیت و غیرت کی خاطر مسلمانوں کے ساتھ گھائی میں محصور ہوئے۔جبکہ ابولہب وغیرہ بعض معاندین اسلام نے محصور ہونے کی بجائے کفار کا ساتھ دینا پسند کیا تھا۔بنو ہاشم کے غیر مسلم مگر مسلمانوں کے ہمدرد اور بہی خواہ محصور افراد پر مسلمانوں کے حسن سلوک کا نیک اثر ہونا ایک طبعی بات تھی۔مزید برآں مظلومیت کے اس زمانہ میں مسلمانوں کی صحبت و معیت میں رہ کر ان غیر مسلموں کا مسلمانوں کی عبادات اور اخلاق وکردار سے متاثر ہونا بھی