اسوہء انسانِ کامل — Page 250
250 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ مشتعل اسوہ انسان کامل یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔اس پر کفار من ہو کر انہیں مارنے کو دوڑے اور مار مار کر ادھ موا کر دیا۔اتنے میں حضرت عباس آگئے۔انہوں نے قریش سے کہا۔تمہیں پتہ ہے کہ یہ غفار قبیلہ کا آدمی ہے جو تمہارے شام کے تجارتی رستہ پر آباد ہے۔اس طرح انہوں نے ابوذر کو کفار کے پچنگل سے چھڑایا۔مگر اگلے دن پھر ابوذر نے اسی طرح کلمہ توحید و رسالت کی منادی کی اور پھر دشمن کے ظلم وستم کا نشانہ بنے یہاں تک کہ حضرت عباس نے پھر آ کر چھڑایا۔( بخاری ) 15 سردار قبیلہ دوس کا قبول اسلام ایک اور قابل ذکر واقعہ قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرو کا ہے جنہوں نے رسول اللہ کی بالواسطہ تبلیغ کی بجائے قریش کی مخالفت کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی۔طفیل بن عمرو ایک معزز انسان اور عقل مند شاعر تھے جب وہ مکہ میں آئے تو قریش کے بعض لوگوں نے ان سے کہا ” آپ ہمارے شہر میں آئے ہیں اس شخص ( محمد ) نے عجیب فتنہ بر پا کر رکھا ہے۔اس نے ہماری جمعیت کو منتشر کر دیا ہے۔وہ بڑا جادو بیان ہے۔باپ بیٹے ، بھائی بھائی اور میاں بیوی کے درمیان اس نے جدائی ڈال دی ہے۔ہمارے ساتھ جو بیت رہی ہے ، وہی خطرہ ہمیں تمہاری قوم کے بارہ میں بھی ہے۔پس ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اس شخص سے ہوشیار رہنا اور اس کا کلام تک نہ سننا۔“ طفیل کہتے ہیں کہ کفار مکہ نے مجھے اتنی تاکید کی کہ میں نے عزم کر لیا کہ اس شخص کی کوئی بات سنوں گا نہ اس سے کلام کروں گا۔یہاں تک کہ بیت اللہ جاتے ہوئے میں نے کانوں میں روئی ٹھونس لی تا کہ غیر ارادی طور پر بھی اس شخص کی کوئی بات میرے کان میں نہ پڑ جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔میں ان کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔آپ کی تلاوت کے چند الفاظ کے سوا میں کچھ بھی نہ سن سکا۔مگر جو سناوہ مجھے اچھا کلام محسوس ہوا۔میں نے اپنے دل میں کہا ”میرا بڑا ہو۔میں ایک دانا شاعر ہوں۔بُرے بھلے کو خوب جانتا ہوں، آخر اس شخص کی کوئی بات سنے میں حرج کیا ہے؟ اگر تو اچھی بات ہوگی تو میں اسے قبول کرلوں گا اور بری ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔“ کچھ دیر انتظار کے بعد جب رسول اللہ گھر تشریف لے گئے تو میں آپ کے پیچھے ہولیا۔میں نے کہا اے محمد ! آپ کی قوم نے مجھے آپ کے بارے میں یہ یہ کہا ہے۔خدا کی قسم! انہوں نے مجھے آپ کے بارے میں اتنا ڈرایا کہ میں نے روئی اپنے کانوں میں ٹھونس لی تا کہ آپ کی بات نہ سن سکوں مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کا کچھ کلام سنادیا اور جو میں نے سنا وہ عمدہ کلام ہے۔آپ خود مجھے اپنے دعوئی کے بارہ میں کچھ بتائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کے بارہ میں بتایا اور قرآن شریف بھی پڑھ کر سنایا۔خدا کی قسم ! میں نے اس سے خوبصورت کلام اور اس سے زیادہ صاف اور سیدھی بات کوئی نہیں دیکھی۔چنانچہ میں نے اسلام قبول کر لیا اور حق کی گواہی دی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیؐ! میں اپنی قوم کا سردار ہوں اور لوگ میری بات مانتے ہیں۔میرا ارادہ واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلانے کا ہے۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان کے مقابل کوئی تائیدی