اسوہء انسانِ کامل — Page 251
251 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل نشان عطا کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت دعا کی کہ اے اللہ ! اسے کوئی نشان عطا کر۔پھر میں اپنی قوم کی طرف لوٹا۔جب میں اس گھائی پر پہنچا جہاں سے آبادی کا آغاز ہوتا ہے تو میری آنکھوں کے درمیان پیشانی پر ایک چراغ جیسی روشنی محسوس ہونے لگی۔میں نے دعا کی کہ اے اللہ یہ نشان میرے چہرے کے علاوہ کہیں اور ظاہر فرما دے۔کہیں الٹا یہ لوگ اعتراض نہ کریں کہ اپنے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا ہے۔چنانچہ روشنی کا نشان میری چابک کے سرے پر ظاہر ہو گیا۔جب میں گھائی سے اتر رہا تھا لوگ میری اس روشنی کو میری چائے پر ایک لٹکتے چراغ کی طرح دیکھ رہے تھے۔اگلے دن میرے بوڑھے والد مجھے ملنے آئے تو میں نے کہا ابا جان ! آج سے میرا آپ کا تعلق ختم۔والد نے سبب پوچھا۔میں نے بتایا کہ میں تو اسلام قبول کر کے محمد کی بیعت کر چکا ہوں۔والد کہنے لگے پھر میرا بھی وہی دین ہے جو تمہارا ہے۔میں نے کہا۔آپ جا کر غسل کر کے صاف کپڑے پہن کر تشریف لائیں تا کہ میں آپ کو اسلامی تعلیم کے بارہ میں کچھ بتاؤں۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔میں نے انہیں اسلام کی تعلیم سے آگاہ کیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔پھر میری بیوی میرے پاس آئی اسے بھی میں نے کہا کہ آپ مجھ سے جدار ہو۔میرا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا۔وہ کہنے لگی میرے ماں باپ تم پر قربان یہ کیوں؟ میں نے کہا تمہارے اور میرے درمیان اسلام نے فرق ڈال دیا ہے۔چنانچہ اس نے بھی اسلام قبول کر لیا۔اس کے بعد میں نے اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی طرف دعوت دی مگر انہوں نے میری دعوت پر توجہ نہ کی۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملکہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی دوس قبیلہ کے لوگ اسلام قبول نہیں کرتے آپ ان کے خلاف بد دعا کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ ! دوس قبیلہ کو ہدایت عطا فرما اوراے اللہ ان کو ہدایت دے اور ان کو لے کر آ۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا مقصد یہ تو نہیں تھا کہ ان کے حق میں دعا کریں۔رسول کریم نے کیا پر حکمت جواب دیا فرمایا ” اس قوم میں تمہارے جیسے کئی لوگ موجود ہیں۔“ اس طرح طفیل کو سمجھایا کہ جس طرح خود آپ کو آغاز میں سخت تعصب کے باوجود بالآخر طبعی سعادت اور حق سے رغبت اسلام کی طرف کھینچ لائی۔اس طرح کئی ایسے لوگ ہیں جن تک پہنچ کر حکمت اور نرمی سے پیغام حق پہنچانا اور اتمام حجت کرنا ضروری ہے۔امر واقعہ بھی یہی ہے کہ حضرت طفیل نے جس طرح اپنے والد اور بیوی کو جدائی اور علیحدگی کی دھمکی دے کر بالآخر اسلام کی طرف مائل کر لیا تھا آپ کی قوم محض اپنے سردار کے لحاظ میں بت پرستی کا ظلم و فساد، بد کرداری ، شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ ترک کرنے کے لئے فوراً تیار نہ ہوئی تبھی نبی کریم نے حضرت طفیل کو توجہ دلائی کہ آپ واپس جا کر نرمی اور محبت سے پیغام حق پہنچائیں۔چنانچہ جب طفیل بن عمرو نے جا کر اس نصیحت کے مطابق مسلسل دعوت الی اللہ کی تو کئی لوگوں کو قبول حق کی توفیق ملی۔ان میں جندب بن عمر بھی تھے جو جاہلیت میں ہی کہا کرتے تھے کہ میں سمجھتا ہوں کہ مخلوق کا کوئی خالق تو ضرور ہے۔یہ نہیں