اسوہء انسانِ کامل — Page 230
رض 230 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول اسوہ انسان کامل تھا۔ابی بن کعب محمد بن مسلمہ اور زید بن حارثہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم حاضر ہیں۔رسول اللہ نے محمد بن مسلمہ کو بھیجوایا اور فرمایا کہ سعد بن ربیع سے ملاقات ہو تو انہیں میرا سلام پہنچانا اور کہنا کہ رسول اللہ تمہارا حال پوچھتے تھے۔انہوں نے جا کر میدان اُحد میں بکھری لاشوں کے درمیان انہیں تلاش کیا۔انہیں آوازیں دیں مگر کوئی جواب نہ آیا۔تب انہوں نے بآواز بلند کہا کہ اے سعد بن ربیع ! رسول اللہ نے مجھے تمہاری خبر لینے بھیجا ہے۔اچانک لاشوں میں جنبش ہوئی اور ایک نحیف سی آواز آئی۔وہاں پہنچے تو سعد کو سخت زخمی حالت میں پایا۔ان سے کہا کہ رسول اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں پتہ کروں کہ کس حال میں ہو؟ اور حضور کا سلام آپ کو پہنچاؤں۔انہوں نے کہا میں تو موت کے کنارے پر ہوں، مجھے بارہ تلواروں کے زخم آئے ہیں اور ایسے کاری زخم ہیں کہ ان سے جان بر ہونا مشکل ہے۔اس لئے میری طرف سے بھی رسول اللہ کو سلام پہنچا دینا اور کہنا کہ سعد بن ربیع ” آپ کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ پہلے نبیوں کو اپنی امت کی طرف سے جو جزا ملی ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو اُن سب سے بہترین جزا عطا کرے اور میری قوم کو بھی میری طرف سے سلام پہنچانا اور یہ پیغام دینا کہ سعد بن ربیع کہتے تھے کہ تم نے عقبہ کی گھاٹی میں جو عہد رسول اللہ سے کیا تھا اُسے ہمیشہ یادرکھنا۔ہم نے آخری سانس تک یہ عہد نبھایا۔اب یہ امانت تمہارے سپرد ہے۔جب تک تمہارے اندر ایک بھی جھپکنے والی آنکھ ہے اگر نبی کریم پر کوئی آنچ آگئی تو تمہارا کوئی عذر خدا کے حضور قبول نہ ہوگا۔محمد بن مسلمہ نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سارا واقعہ عرض کر دیا۔جس سے یقیناً آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔(الحلبیہ )26 ایک اور عاشق رسول زید بن دشنہ تھے، جو ایک اسلامی مہم کے دوران قید ہوئے۔مشرک سردار صفوان بن امیہ نے اُن کو خریدا تا کہ اپنے مقتولین بدر کے انتقام میں انہیں قتل کرے۔جب صفوان اپنے غلام کے ساتھ انہیں قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر لے کر گیا تو کہنے لگا اے زید میں تجھے خدا کی قسم دیگر پوچھتا ہوں کیا تو پسند کرتا ہے کہ محمد اس وقت تمہاری جگہ مقتل میں ہو اور تم آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے ہو۔زیڈ نے کہا خدا کی قسم مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے قتل سے بچ جانے کے عوض رسول اللہ کوکوئی کانٹا بھی چھ جائے۔ابوسفیان نے یہ سنا تو کہنے لگا خدا کی قسم ! میں نے دنیا میں کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محبت محمد کے ساتھی اس سے کرتے ہیں۔(الحلبیہ ( 27 ایک دفعہ نبی کریم نے بعض قبائل کی درخواست پر ستر حفاظ کرام کو دعوت الی اللہ کے لئے بھجوایا۔جنہیں بنی سلیم وغیرہ قبائل نے بد عہدی سے بئر معونہ مقام پر شہید کر دیا۔دشمن نے جب مسلمانوں کے قافلہ کے امیر حرام بن ملحان کو قتل کر کے انہیں گھیر لیا۔اُس وقت سب نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! اس وقت ہمارے پاس کوئی اور ذریعہ رسول اللہ کو اطلاع کرنے کا نہیں، کسی طرح اپنے رسول کو ہمارا آخری سلام پہنچا دے اور ہماری شہادتوں کی خبر دے کر یہ اطلاع کر دے کہ ہم اپنے رب سے راضی ہیں اور ہمارا رب ہم سے راضی۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کو جبریل کے ذریعے اطلاع فرمائی۔حضور اُس وقت مدینے میں اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔آپ نے اچانک فرمایا وَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ