اسوہء انسانِ کامل — Page 9
اسوۃ انسان کامل 9 سوانح حضرت محمد علی 15 رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھا۔وہ جنگ بدر میں دو انصاری لڑکوں کے ہاتھوں مارا گیا۔( بخاری ) 3 دیگر معاندین میں آپ کا چا ابو لہب تھا۔جو مخالفت کی حالت میں ہلاک ہوا۔ان کے علاوہ سرداران قریش میں سے ولید بن مغیرہ ، عقبہ بن ابی معیط ، امیہ بن خلف، ابی بن خلف اور نضر بن الحارث سخت معاندین میں شامل تھے جو اپنے بد انجام کو پہنچے۔یہ لوگ اسلام کو مٹانے کے درپے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی۔ی ہے تو قریش کے سرداروں پر مشتمل ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب کے پاس بھجوایا کہ اپنے بھتیجے کو اس نئے دین کی اشاعت سے روک دیں یا پھر ہمیں خود اس کے ساتھ فیصلہ کرنے دیں اور اس کی حمایت چھوڑ دیں۔پہلی دفعہ تو ابو طالب نے اس وفد کو سمجھا کر واپس بھجوا دیا۔پھر جب وہ آیات قرآنی اتریں جن میں مشرکین کی حقیقت کھول کر بیان کی گئی کہ وہ پلید اور مخلوق میں سے بدترین ہیں۔وہ بے وقوف اور ذریت شیطان ہیں اور ان کے معبود آگ کا ایندھن۔ہیں تو قریش کے سرداروں کا دوسرا وفد ابو طالب کے پاس آیا اور کہا کہ اگر آپ اب بھی اس کی حمایت نہیں چھوڑتے تو مجبور اہم سب مل کر آخری دم تک آپ کا مقابلہ کریں گے۔اس پر ابو طالب نے سخت گھبرا کر آنحضرت ﷺ سے بات کی کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔تو نے ان کے عقل مندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شر البریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقو دالنا ررکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا۔میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجاور نہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت ﷺ نے جواب میں کہا کہ اے چا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ ہے اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے۔اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا اور اے پچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہو جا۔بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔آنحضرت ﷺ یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہو رہی تھی۔اور جب آنحضرت ﷺ یہ تقریرختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے۔جا اپنے کام میں لگا رہ۔جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے ، میں تیرا ساتھ دونگا“۔(ازالہ اوہام ، ابن ہشام) 16