اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 221 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 221

221 رسول کریم کی رافت و شفقت اسوہ انسان کامل رسول اللہ سے فتویٰ کا طالب ہوا آپ نے فرمایا تم غلام آزاد کر سکتے ہو اس نے کہا نہیں۔فرمایا کیا دوماہ کے روزے رکھ سکتے ہو اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔اس نے کہا میری تو یہ بھی توفیق نہیں۔ابھی وہ بیٹھا ہی ہوا تھا کہ ایک شخص گدھے پر کچھ کھانے کا سامان لایا آپ نے پوچھا کہ وہ شخص کہاں گیا پھر اسے فرمایا کہ یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔اس نے کہا کیا اپنے سے زیادہ محتاج لوگوں پر صدقہ کروں۔میرے اپنے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں فرمایا جاؤ خود کھالو۔(بخاری)18 رسول اللہ کے زمانہ میں ایک انصاری بہت بیمار رہ کر لاغر ہو گیا۔کسی کی لونڈی اس کے گھر گئی وہ اس کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوا۔لوگ عیادت کو آئے تو بتایا کہ مجھ سے یہ غلطی سرزد ہو گئی ہے۔میرے لیے رسول اللہ سے فتویٰ پوچھو۔صحابہ نے رسول اللہ کو بتایا کہ فلاں شخص سخت بیمار اور کمزور ہے بس ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے۔رسول اللہ نے فرمایا کہ سو تنکے اکٹھے کر کے ایک دفعہ ماردو اور (اسی طرح) حد پوری کردو۔(ابوداؤد )19 رسول کریم کی رافت و رحمت کی بے شمار مثالوں میں سے یہ چند نمونے ہیں۔اس قسم کے دیگر کئی دلچسپ واقعات کے لئے ملاحظہ ہوں کتاب ہذا کے عناوین صلہ رحمی، ہمدردی خلق ، حلم، صحابہ سے محبت ،عفو وکرم اور مربی اعظم۔