اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 220 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 220

220 رسول کریم کی رافت و شفقت اسوہ انسان کامل ہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔وہ شخص کہنے لگا یا رسول اللہ ان باتوں کے باوجود پھر ہم کیونکر ہلاک ہو سکتے ہیں؟ رسول کریم نے فرمایا ایک شخص قیامت کے دن ایک عمل پیش کرے گا کہ اگر اسے ایک پہاڑ پر بھی رکھا جائے تو پہاڑ کو اسے اٹھانا بوجھل معلوم ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت اس عمل پر بھاری ہوگی سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا دامن پھیلا کر اسے زیادہ اجر عطا فرمادے۔پھر حضور نے سورۃ الدھر کی ابتدائی اکیس آیات کی تلاوت فرمائی۔جن میں جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہے۔اس پر وہ بشی کہنے لگا یا رسول اللہ ! کیا میری آنکھیں بھی جنت کی نعمتوں کو اسی طرح دیکھیں گی جس طرح آپ کی آنکھیں دیکھتی ہیں۔نبی کریم نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔اس پر وہ حبشی بے اختیار رونے لگا اور اتنا رویا کہ اس کی روح پرواز کر گئی۔حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ اس حیشی کی تدفین کے وقت نبی کریم اسے خود اپنے ہاتھوں سے قبر میں رکھ رہے تھے۔(بیشمی )12 رسول کریم ﷺ احکام شریعت کے نفاذ کی سخت پابندی فرماتے تھے۔لیکن اس میں حسب حالات حتی الوسع نرمی اور سہولت کو مد نظر رکھتے تھے کیونکہ شریعت کا یہی منشا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ العُسر (البقره: 186) کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔خود رسول اللہ نے فرمایا کہ دین آسانی کا نام ہے۔اس لئے آسانی پیدا کیا کرو مشکل پیدا نہ کرو۔( بخاری مسلم 13 ) اسی طرح امت کو ہدایت فرمائی کہ جس حد تک ممکن ہو مسلمانوں کو جرائم کی سزا سے بچاؤ اگر کسی کے لئے اس سزا سے بچنے کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو کیونکہ امام کا معافی دینے میں غلطی کرنا سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔(ترمذی )14 چنانچہ آپ معمولی شبہ کی صورت میں بھی حد کے نفاذ سے منع فرماتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر زنا کرنے کا اعتراف کیا۔پہلے تو آپ نے اس سے اعراض فرمایا جب اس نے چار مرتبہ اقرار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بدکاری کی ہے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں جنون تو نہیں؟ اس نے کہا نہیں چنانچہ وہ شخص رجم کیا گیا۔جب اسے پتھر پڑے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔اسے پکڑ رجم کیا گیا۔نبی کریم نے اس کے بارہ میں رحم دلانہ جذبات کا اظہار فرمایا۔( بخاری 15) ایک شخص اور جسے زنا بالجبر کے جرم میں رجم کیا گیا نبی کریم نے اس مجرم کے بارے میں بھی فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی کہ اگر اہل مدینہ ایسی توبہ کریں تو ان سب کی توبہ قبول کی جائے۔(ترمذی )16 دوسری روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سنگ باری سے وہ شخص بھا گا تو اسے پکڑ کر ہلاک کیا گیا۔نبی کریم کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا جب وہ بھاگ نکلا تھا تو تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔(ترمذی) 17 ایسے انفرادی نوعیت کے گناہ (جن کی باضابطہ سزا مقرر نہیں)۔ان کے ارتکاب کے بعد کوئی شخص تو بہ کرنے کے لئے حاضر خدمت ہوتا تو نبی کریم اس سے عفو کا سلوک فرماتے۔ابوھر بیر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے تعلق قائم کر بیٹھا اور