اسوہء انسانِ کامل — Page 219
اسوہ انسان کامل 219 رسول کریم کی رافت و شفقت دعائیہ انداز میں فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو جلد بیماری دور ہو جائے گی اور ظاہری و باطنی صفائی ہو جائے گی۔اس نے مایوسی سے کہا آپ یہ کہتے ہیں مجھے تو یہ ایسا بخار لگتا ہے جو ایک بڑھے میں جوش مار رہا ہے اور اسے قبر کی طرف لے جارہا ہے۔رسول کریم نے فرمایا اگر تمہارا یہی خیال ہے تو پھر یہی سہی۔( بخاری )9 حضور کی شفقت تو یہ تھی کہ اعرابی کی عیادت کے لئے بنفس نفیس تشریف لے گئے پھر اُسے تسلّی دلائی اور اُس کے حق میں دعا کی ،مگر اس نے ان تمام باتوں کے باوجود ادب رسول کا لحاظ نہ کیا۔پھر بھی آپ نے ایک بیمار اور بوڑھے سے تکرار مناسب نہیں سمجھی اور اس کی کہی بات کا لحاظ کرتے ہوئے اس پر خاموشی فرمائی۔ایک دفعہ نبی کریم تو ہم پرستی کی تردید کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ دراصل کوئی بیماری اپنی ذات میں متعدی نہیں ہوتی۔اس پر ایک اعرابی بول پڑا کہ میرے اونٹ جو ہرن کی طرح صحت مند ہوتے ہیں کسی خارش زدہ اونٹ کے قریب آنے سے انہیں کیوں خارش ہو جاتی ہے؟ نبی کریم نے کیسے پیار اور حکمت سے اسے سمجھایا کہ اگر تمہاری بات ہی درست ہو تو پھر یہ بتاؤ کہ سب سے پہلے اونٹ کو بیماری کس نے لگائی تھی ؟ ( بخاری 10 ) اور یوں ایک بڈو کو بھی دوران گفتگو سوال کرنے پر آپ نے جھڑ کا نہیں حقیر نہیں سمجھا بلکہ معقولیت سے قائل کر کے خاموش کیا۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے رسول اللہ کو ایک اونٹنی تحفہ دی۔حضور نے اس کے عوض اس کو چھ اونٹنیاں دیں مگر وہ پھر بھی ناراض تھا کہ مجھے کم دیا ہے۔اس پر آنحضرت نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک انونی تحفہ دی ہے اور جیسے میں اپنے گھر کے لوگوں کو پہچانتا ہوں اُسی طرح خوب پہچانتا ہوں کہ یہ میری ہی اونٹنی ہے۔یہ اونٹنی فلاں دن مجھ سے گم ہوئی تھی جو اب اس نے مجھے تحفہ دی ہے۔میں نے اس کے بدلے اس کو چھ اونٹنیاں دی ہیں اور یہ ابھی بھی ناراض ہے۔آئندہ سے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں کسی کا ایسا تحفہ قبول نہیں کرونگا۔ہاں قریش ، انصار، بنو ثقیف یا دوس قبیلہ کے مخلصین کا تحفہ رو نہیں کرونگا۔( احمد ) 11 حبشی کی دلداری حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک حبشی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور نے فرمایا کہ سوال کر کے مسائل سمجھ لو۔وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے سفید لوگوں کو ہم کالے لوگوں پر شکل وصورت اور رنگ کے لحاظ سے بھی فضیلت دی ہے اور نبوت کے لحاظ سے بھی۔اگر میں بھی آپ کی طرح ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جس طرح آپ عمل کرتے ہیں میں بھی عمل کروں تو کیا مجھے بھی جنت میں آپ کا ساتھ نصیب ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔پھر نبی کریم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنت میں ایک سیاہ حبشی کے نور کی سفیدی ایک ہزار سال کی مسافت سے بھی نظر آئے گی۔پھر فرمایا جس شخص نے کلمہ لا إله إلا اللہ پڑھ لیا اللہ کے ہاں اسکے لئے اس کلمے کی وجہ سے ایک عہد لکھا جاتا ہے۔جو سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ پڑھتا