اسوہء انسانِ کامل — Page 217
217 رسول کریم کی رافت و شفقت اسوہ انسان کامل رسول ! یہ قاری ہمیں قرآن شریف سنا رہے تھے۔حضور نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کئے کہ جن کے ساتھ مجھے مل بیٹھنے اور حسن معاشرت کا حکم دیا گیا ہے۔پھر آپ ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے اور فرمایا حلقہ بنا لو تا کہ سب کے چہرے سامنے ہوں۔ابوسعید خدری کہتے تھے میرا خیال ہے حضور نے میرے سوا کسی کو نہیں پہچانا۔آپ نے فرمایا اے مہاجرین میں سے مفلسوں کی جماعت !تمہیں قیامت کے دن کامل نور کی بشارت ہو۔تم جنت میں امراء سے آدھا دن پہلے داخل ہو گے اور یہ آدھا دن پانچ سوسال کے برابر ہے۔(ابوداؤد ) 3 حضرت انس بن مالک خادم رسول نے ایک مجنون عورت کے ساتھ رسول کریم کی شفقت و محبت کا ایک عجیب واقعہ بیان کیا ہے کہ مدینہ میں ایک اگلی سی عورت رہتی تھی۔جس کا نام اُم زفر تھا، حضرت خدیجہ کی خادمہ خاص رہ چکی تھی ( بعد میں عقل میں کچھ فتور پڑ گیا تھا۔وہ ایک روز حضور کے پاس آگئی اور کہنے لگی کہ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔علیحدگی میں بات کرنا چاہتی ہوں۔آپ نے کس وسعت حوصلہ سے اس کمزور اور دیوانی عورت کو یہ جواب دیا کہ اے فلاں کی ماں ! مدینہ کے جس راستہ یا گلی میں کہو بیٹھ جاؤ اور میں تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات سنوں گا اور تمہارا کام کر دونگا۔چنانچہ وہ عورت ایک جگہ جا کر بیٹھ گئی۔حضور بھی اس کے ساتھ بیٹھ رہے۔اس عورت نے اپنی حاجت بیان کی اور آپ اُس وقت تک اٹھے نہیں جب تک اس عورت کی تسلی نہیں ہوگئی۔(ابن ماجہ ) 4 غلاموں، لونڈیوں کا جو حال اُس زمانہ میں تھا تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اسے خوب جانتے ہیں۔اُن سے جانوروں کا سا سلوک ہوتا تھا۔ایک حبشی لونڈی مدینہ میں رہتی تھی اسے مرگی کا دورہ پڑتا تھا۔ایک روز بے چاری اپنی بیماری کی شکایت لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ حضور مجھے جب مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو میں بے پردہ ہو جاتی ہوں۔آپ میرے لئے اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس تکلیف اور بے پردگی سے بچائے۔آپ نے اس حبشی خاتون کی بہت دلداری فرمائی۔کچھ دیر تسلی کی باتیں اس سے کرتے رہے پھر فرمایا اگر تم چاہو اور صبر کر سکو تو تمہیں اس کے بدلہ جنت ملے گی اور اگر چاہوتو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ معجزانہ طور پر تمہیں اس بیماری سے شفا دیدے۔وہ کہنے لگی حضور! میں صبر کرتی ہوں لیکن آپ یہ دعا ضرور کریں کہ میں مرگی کی حالت میں بے پردگی سے بچ جاؤں۔حضرت ابن عباس لوگوں کو یہ لونڈی دکھا کر کہتے تھے کیا میں تمہیں اہل جنت میں سے ایک عورت نہ دکھاؤں۔( بخاری )5 غریبوں سے دوستی حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی جس کا نام زاہر تھاوہ نبی کریم کو دیہات کی چیز یں تحفہ میں لا کر دیا کرتا تھا۔نبی کریم اسے انعام واکرام سے نوازتے اور فرمایا کرتے تھے کہ زاہر ہمارا دیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں۔حضور اس سے بہت محبت کا سلوک فرماتے تھے۔وہ شخص بہت سادہ شکل کا تھا۔ایک دفعہ حضور نے اسے دیکھا کہ وہ بازار میں