اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 216 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 216

اسوہ انسان کامل 216 رسول کریم کی رافت و شفقت رسول کریم ع کی رافت و شفقت قرآن شریف میں نبی کریم کے پاکیزہ اخلاق کا نقشہ یہ پیش کیا گیا ہے۔لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُ وُفٌ رَّحِيمٌ (سورة التوبه (128) یعنی اے لوگو! تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آیا ہے تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر گراں گزرتا ہے وہ تمہاری بھلائی کا بے حد خواہش مند ہے اور مومنوں کے ساتھ انتہائی نرمی و رافت سے پیش آنے والا اور محبت و پیار کا سلوک کرنے والا ہے۔اس آیت میں رسول کریم کو بطور خاص اللہ تعالیٰ کی دوصفات رؤف اور رحیم کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔جس کا مطلب ہے کہ انتہائی رافت اور نرمی کا سلوک کرنے والے اور مخلوق خدا سے بے حد محبت اور پیار کرنے والے۔چنانچہ آپ ہمیشہ نرمی، آسانی اور پیار کی تعلیم دیتے تھے۔نبی کریم کی رافت ورحمت اپنی مثال آپ تھی۔دراصل آپ کی محبت یا نفرت خدا کی خاطر ہوا کرتی تھی اور خدا کا حکم آپ کو یہ تھا کہ وہ لوگ جو صبح و شام اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اسے یاد کرتے ہیں ان کو مت دھتکارنا۔(سورۃ الانعام :53) غریب صحابہ سے شفقت رسول کریم ہمیشہ دین میں تختی کو نا پسند فرماتے تھے۔سفر اور بیماری وغیرہ میں جو رخصتیں نماز اور روزے کی عبادات میں ہیں، ان سے بعض لوگ دین پر شدت سے قائم ہونے کے خیال سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ،مگر نبی کریم فرماتے تھے اللہ تعالیٰ کو یہ بات کہ اس کی رخصتوں سے فائدہ اُٹھایا جائے اسی طرح بہت پسند ہے جس طرح اسے نا پسند ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔(احمد) 1 ایک دفعہ حضرت حمزہ بن عمر واسلمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت ہے میرے لئے کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا یہ اللہ کی رخصت ہے جو شخص اسے اختیار کرے تو یہ بہت عمدہ ہے۔لیکن اگر کوئی روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر گناہ نہیں ہے۔( مسلم )2 حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ میں غریب مہاجرین کی ایک جماعت میں بیٹھا تھا جن پرکن کے پورے کپڑے بھی نہیں تھے۔ایک قاری ہمیں قرآن سنا رہا تھا۔اتنے میں رسول اللہ تشریف لائے۔آپ ہمارے پاس کھڑے ہوئے تو قاری خاموش ہو گیا۔آپ نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا تم کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا اے اللہ کے