اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 8 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 8

اسوہ انسان کامل 8 سوانح حضرت محمد علی مجھے کپڑا اوڑھا دو۔اس پر پڑ جلال الفاظ میں آپ پر سورۃ مدثر کی یہ آیات نازل ہوئیں يَا يُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَانْذِرُ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرُ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ - ( سورۃ المدثر : 2 تا 5) یعنی اسے کپڑا اوڑھنے والے ! اٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر اور اپنے 12 رب ہی کی بڑائی بیان کر اور جہاں تک تیرے کپڑوں ( یعنی قریبی ساتھیوں ) کا تعلق ہے تو انہیں بہت پاک کر۔تین سال بعد عام تبلیغ کے لئے ان الفاظ میں حکم ہوا فَاصْدَعُ بِمَا تُو مَرُ ( الحجر 3) یعنی اے رسول ! جو حکم تجھے دیا گیا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے۔پھر اس کے کچھ عرصہ بعد یہ ارشاد ہوا وَ انْذِرُ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ - ( سورۃ الشعراء 215) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر۔(ابن ہشام) رسول کریم نے اس ارشاد کی تعمیل کی خاطر کوہ صفا پر قریش کے تمام قبیلوں کے نام لے کر انہیں بلایا اور فرمایا کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک بہت بڑا لشکر جرار تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم میری بات مانو گے؟ سب نے بالا تفاق کہا کہ ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ آپ کو سچا اور راست باز پایا ہے۔تب آپ نے فرمایا اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے پاس پہنچ چکا ہے۔خدا پر ایمان لاؤ تو اس سے بچ جاؤ گے۔قریش یہ سن کر ہنسی مذاق کرتے اور آپ کو برا بھلا کہتے چلے گئے۔آپ کے چار ابولہب نے تو یہاں تک کہا کہ تمہارا برا ہو۔کیا اسلئے ہمیں یہاں جمع کیا ہے؟ اس پہلی دعوت عام کا کوئی مثبت نتیجہ نہ دیکھ کر رسول کریم نے بنو مطلب کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے حضرت علی کے ذریعہ دعوت طعام کا انتظام کیا اور قبائل قریش کو خدا کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا۔کون ہے جو اس کام میں میرا مددگار ہو گا ؟ سب خاموش تھے۔ایک بارہ سالہ کمزور اور دبلا پتلا بچہ کھڑا ہو کر کہنے لگا اگر چہ میں نا تواں ہوں ، مگر میں آپ کا ساتھ دونگا۔یہ حضرت علی تھے، جنہوں نے بچپن میں کیا یہ عہد عمر بھر نبھایا۔(طبری) 13۔پہلا تبلیغی مرکز اور مخالفت رفتہ رفتہ مسلمانوں کی تعداد بڑھنے لگی تو مخالفت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔دوسری طرف کمزور مسلمانوں سے رابطہ اور ان کی وحدت کے لئے ایک مرکز کی ضرورت تھی۔نبی کریم نے اپنے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے مکان کو مرکز بنایا جہاں چوتھے سال نبوت سے چھٹے سال تک دعوت تبلیغ اورتعلیم وتربیت کا کام ہوتا رہا۔(حلبیہ )4 14 ہر چند کہ آنحضرت کا پر امن پیغام خدائے واحد کی محبت و عبادت اور انسانوں سے عدل اور احسان کے اصولوں پر مشتمل تھا اور اہل عرب کی عزت و ترقی کا ضامن تھا۔لیکن الہی سنت کے مطابق اس کی مخالفت ہونا بھی طبعی امر تھا۔کیونکہ ایک طرف پرانے نظام کو نئے پیغام سے اپنی آزادی و بے راہ روی پر پابندی لگنے اور عظمت و بڑائی کے سلب ہونے کا خوف بھی دامن گیر ہوتا ہے تو دوسری طرف نیا پیغام لانے والوں سے حسد اور رقابت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔یہی تاریخ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد اللہ کے وقت میں پوری شان سے دہرائی گئی۔مکہ میں آنحضرت سے کے مخالفین میں سر فہرست قریش کا سردار عمرو بن ہشام تھا جو ابوالحکم ( دانائی کا باپ) کہلاتا تھا یعنی ابو جہل۔وہ