اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 206 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 206

اسوہ انسان کامل 206 رسول کریم کی ہمدردی خلق نے فرمایا ! اس شخص کا حق اسے دیدو۔ابو جہل نے کہا اچھا۔آپ نے فرمایا ! میں یہاں سے واپس نہیں جاؤں گا جب تک اس کا حق ادا نہ ہو جائے۔ابو جہل اندر گیا اور اس شخص کی رقم لا کر اسے دے دی۔تب آپ واپس تشریف لائے۔ادھر اراشی نے واپس آکر سردارانِ قریش کی مجلس میں کہا کہ اللہ محمد کو جزائے خیر دے اس نے مجھے میر امال دلوا دیا ہے۔اتنے میں قریش کا بھجوایا ہوا آدمی بھی آگیا اور کہنے لگا آج میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا ہے کہ ادھر محمد نے ابو جہل کو ا راشی کا حق دینے کو کہا اور ادھر اس نے فور ارقم لا کر ادا کر دی۔تھوڑی دیر میں ابو جہل بھی آ گیا۔سب اس سے پوچھنے لگے کہ تمہیں کیا ہو گیا تھا ؟ ابو جہل نے کہا کہ جونہی میں نے محمد کی آواز سنی ، مجھ پر سخت رعب طاری ہو گیا۔جب باہر آیا تھا تو دیکھا کہ محمد کے سر کے پاس خونخوار اونٹ ہے۔اگر میں انکار کرتا تو وہ اونٹ مجھے چیر پھاڑ کر رکھ دیتا۔(ابن ہشام ) 10 امت کے لئے درد رسول کریم ﷺ کے دل میں اپنی امت کے لئے بہت درد تھا۔حضرت عباس بن مرداس السلمی سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں عرفات کی شام اپنی امت کے لئے بخشش کی دعا کی۔آپ کو جواب ملا کہ میں نے تیری امت کو بخش دیا سوائے ظالم کے۔ظالم سے مظلوم کا بدلہ لیا جائیگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا اے میرے رب! اگر تو چاہے تو ( یہ بھی تو کر سکتا ہے کہ ) مظلوم کو (مظلومیت کے بدلہ میں ) جنت دیدے۔ظالم کو (اس کا ظلم ) بخش دے۔اس شام تو آپ کو اس دعا کا کوئی جواب نہ ملا مگر مزدلفہ میں صبح کے وقت آپ نے پھر یہ دعا کی تو آپ کی دعا شرف قبول پاگئی۔اس پر رسول اللہ (خوش ہو کر مسکرانے لگے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم ) ہنستا مسکراتا ہی رکھے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کے دشمن ابلیس کو جب یہ پتہ چلا کہ اللہ نے میری دعاسن لی ہے اور میری امت کو بخش دیا ہے تو وہ مٹی لے کر اپنے سر میں ڈالنے لگا اور اپنی ہلاکت و تباہی کی دعائیں کرنے لگا۔اس کی گھبراہٹ کا یہ عالم دیکھ کر مجھ سے جنسی ضبط نہ ہوسکی۔(ابن ماجہ ) 11 رسول کریم کو ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اپنی امت کی تکلیف کا احساس رہتا تھا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم میرے پاس سے گئے تو مزاج خوشگوار تھا، واپس آئے تو غمگین تھے۔میں نے کہا اے اللہ کے رسول، آپ میرے پاس سے گئے تو ہشاش بشاش تھے واپس آئے تو غمگین ہیں۔آپ نے فرمایا میں کعبہ کے اندر گیا تھا۔مگر اب افسوس ہو رہا ہے کہ کاش ایسا نہ کیا ہوتا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو (اس فعل کے ذریعہ سے ) مشقت میں نہ ڈال دیا ہو۔یعنی اگر سب امتی بھی کعبہ کے اندر جانے کی خواہش کریں گے تو اُن کی کثرت کے باعث یہ خواہش پوری ہونی مشکل ہو جائے گی۔(ابن ماجہ )12 اسی طرح رسول کریم فرماتے تھے کہ اگر امت پر گراں خیال نہ کرتا تو انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے کا حکم