اسوہء انسانِ کامل — Page 201
201 صلہ رحمی میں رسول کریم کا شاندار نمونہ اسوہ انسان کامل اور فرماتے تھے کہ بے شک قریش کی فلاں شاخ کے لوگ میرے دوست نہیں رہے، دشمن ہو گئے ہیں مگر آخر میرا اُن سے ایک خونی رشتہ ہے، میں اس رحمی تعلق کے حقوق بہر حال ادا کرتا رہوں گا۔( بخاری ) 18 چنانچہ جب بھی اہل مکہ کو رسول اللہ کی مدد کی ضرورت ہوئی۔آپ نے ان سے احسان کا سلوک فر مایا۔مکہ میں قحط پڑا اور وہ رحمی رشتہ کا واسطہ لے کر آئے تو آپ نے نہ صرف بارش کے لئے دعا کی جس سے قحط دور ہو گیا۔( بخاری )19 بلکہ مدینہ سے فوری امداد بھی بھجوائی۔فتح مکہ کے سفر میں جمعہ مقام پر رسول کریم کا چا (ابوسفیان ) ابن حارث عفو کا طالب ہو کر آیا۔یہ حضور کے بچپن کا ہم عمر ساتھی تھا مگر دعوی نبوت کے بعد آپ کا سخت دشمن ہو گیا۔آپ کو بہت اذیتیں دیں اور کہا کہ میں تو اس وقت ایمان لاؤں گا جب میرے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر جاؤ اور فرشتوں کے جلوہ میں کوئی صحیفہ اتار لا ؤ جو اس پر گواہ ہوں۔اسی پر بس نہیں کی یہ شخص آنحضور کے خلاف ہیں برس تک گندے اشعار بھی کہتا رہا۔سفر فتح مکہ میں حضرت ام سلمہ نے رسول اکرم کی خدمت میں ان کی معافی کی سفارش کی۔پہلے تو حضور نے اعراض کیا مگر جب ابن الحارث کا یہ پیغام پہنچا کہ معافی نہ ملنے کی صورت میں وہ بھوکا پیاسا رہ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا تو رسول کریم کا دل بھر آیا۔آپ نے اُسے ملاقات کی اجازت دی اور معاف فرما دیا۔اس موقع پر ابوسفیان بن حارث نے کچھ اشعار کہے جن میں ایک شعر یہ بھی تھا کہ هَدَانِي هَادٍ غَيْرُ نَفْسِي وَنَالَنِي مَعَ اللَّهِ مَنْ طَرَدْتُ كُلَّ مُطَرَّدٍ یعنی اللہ نے مجھے اس پاک وجود کے ذریعہ ہدایت نصیب فرمائی جسے میں نے دھتکار کر رد کر دیا تھا اور دشمنی میں اس کا پیچھا کیا تھا۔رسول کریم نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور بڑے درد سے فرمایا ” تم نے ہی مجھے دھتکارا تھا نا! اور بچپن کی دوستی کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔(ابن ہشام 20 یہ ابوسفیان بن حارث تو رسول کریم کے چچا تھے۔سردار مکہ ابوسفیان بن حرب سے تو دور کا رشتہ تھا ، جس کا نسب چوتھی پشت میں جا کر رسول اللہ سے ملتا ہے، وہ ساری عمر رسول اللہ سے جنگیں کرتا رہا۔مگر آپ نے اس سے بھی حسن سلوک کیا۔حضرت عباس ابوسفیان کو فتح مکہ کے موقع پر پکڑ لائے تو حضرت عمر نے ان کے قتل کی اجازت چاہی۔حضرت عباس نے عرض کیا میں نے اسے پناہ دی ہے۔حضور نے فرمایا عباس اسے ساتھ لے جاؤ صبح لے آنا۔صبح حضور نے ابوسفیان سے پوچھا کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم لا اله الا اللہ کہو۔ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ کتنے کریم اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔اگر کوئی اور معبود ہوتا تو آج ہمارے کام نہ آتا۔پھر کہا البتہ رسالت کے بارے میں کچھ شبہ ہے مگر رسول اللہ نے نہ صرف ابوسفیان