اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 198 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 198

اسوہ انسان کامل 198 صلہ رحمی میں رسول کریم کا شاندار نمونہ صلہ رحمی میں رسول کریم کا شاندار نمونہ صلہ رحمی یعنی خونی رشتہ داروں سے حسن سلوک بھی ایک اعلیٰ درجہ کا خلق ہے۔کہتے ہیں اول خویش بعد درویش۔اگر قریبی عزیزوں سے ہی انسان کا احسان کا تعلق نہیں تو ایسے شخص سے عام بنی نوع انسان سے حسن سلوک کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے جس کی تعلیم قرآن شریف نے دی ہے کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَائِ ذِي الْقُرْبى (النحل: 91) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔دوسری جگہ صلہ رحمی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے انتہائی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کے نام کے ساتھ تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رحمی رشتوں کے حق بھی ادا کرو۔“ (سورۃ النساء:2) رسول کریم کی بعثت کا ایک بڑا مقصد رشتوں کے تقدس اور انسانیت کے حقوق کا قیام بھی تھا۔حضرت عمر و بن عنبسہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں ابتدائی زمانہ اسلام میں حاضر ہوا۔جب آپ مخفی طور اسلام کا پیغام پہنچار ہے تھے۔میں نے پوچھا آپ کا کیا دعوئی ہے۔آپ نے فرمایا میں نبی ہوں۔میں نے کہا نبی کیا ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا اللہ کا رسول ہوتا ہے میں نے عرض کیا کسی تعلیم کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا اس تعلیم کے ساتھ کہ اللہ کی عبادت ہو اور رحمی رشتوں کو نیکی اور احسان کے ساتھ استوار کیا جائے۔(حاکم) 1 رحمی رشتہ داروں میں سے قرآن شریف میں سب سے مقدم والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرنے کی تعلیم ہے۔پھر دیگر عزیز واقارب کے ساتھ درجہ بدرجہ حسن سلوک کا حکم ہے۔جن میں اولاد، بیوی، بھائی، بہن ، چا، پھوپھی ، ماموں، خالہ وغیرہ شامل ہیں۔ظاہر ہے وہ رحمی رشتہ دار جو احکام ورثہ میں اللہ تعالیٰ نے مقدم رکھے ہیں۔حسن معاملہ میں بھی وہ دوسروں کی نسبت اولیٰ اور مقدم ہیں۔نبی کریم نے بھی صلہ رحمی کی بہت تاکید کی۔آپ نے فرمایا کہ رحم کا لفظ جس سے رحمی رشتے وجود میں آتے ہیں دراصل اللہ کی صفت رحمان“ سے نکلا ہے۔اگر کوئی شخص ان رشتوں کا خیال نہیں رکھتا اور قطع رحمی کا مرتکب ہوتا ہے تو رحمان خدا اس سے اپنا تعلق کاٹ لیتا ہے، جو ان رشتوں کے حق ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنا تعلق جوڑتا ا ہے۔(بخاری)2 اس ارشاد نبوی میں یہ خوبصورت پیغام مضمر ہے کہ رحمی رشتوں کا لحاظ رکھنے والوں کے حق میں خدا کی صفت رحمانیت