اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 194 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 194

اسوۃ انسان کامل 194 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت دکھائے کہ دوست و دشمن آفرین کہہ کر اس پر گواہ بن گئے۔حضرت خدیجہ نے جب اپنا مال تجارت محمد کے ذریعہ شام بھجوایا اور اپنے غلام میسرہ کو ساتھ کیا ، اس سفر میں بھی آپ نے اپنی امانت و دیانت کی وجہ سے بہت منافع کمایا۔بصری میں خرید و فروخت کے دوران ایک یہودی نے ازراہ آزمائش اصرار کیا کہ آپ لات اور عزیٰ کی قسم کھا ئیں ، آپ نے فرمایا میں نے کبھی ان بتوں کی قسم نہیں کھائی۔اور میں تو ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر دھیان بھی نہیں دیتا۔بالآخر اس شخص نے آپ کی بات تسلیم کر لی۔اور میسرہ سے کہا کہ خدا کی قسم ! یہ وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کا ہماری کتابوں میں ذکر ہے۔( ابن سعد )59 خزیمہ حضرت خدیجہ کے سسرالی رشتہ داروں میں سے تھے۔دعویٰ نبوت سے قبل جب رسول کریم تجارت کے لئے حضرت خدیجہ کا مال تجارت لے کر شام گئے۔خزیمہ بھی حضور کے ساتھ تھے۔حضور کے پاکیزہ اخلاق مشاہدہ کر کے انہوں نے بے اختیار یہ گواہی دی کہ:۔”اے محمد میں آپ کے اندر عظیم الشان خصائل اور خوبیاں دیکھتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی نبی ہیں جس نے تہامہ سے ظاہر ہونا تھا اور میں آپ پر ابھی ایمان لاتا ہوں۔انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ جب مجھے آپ کے دعوی کی خبر ملی میں ضرور آپ کی خدمت میں حاضر ہونگا۔مگر دعوئی کے بعد جلد اس وعدہ کی تکمیل نہ ہوسکی۔فتح مکہ کے بعد آکر اسلام قبول کیا تو رسول اللہ نے فرمایا ” پہلے مہاجر کو خوش آمدید۔(ابن حجر (60 رسول اللہ سودے میں وعدہ کی پابندی کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن ابی الحمساء کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ بعثت سے قبل نبی کریم سے ایک سودا کیا۔ان کا کچھ حصہ میرے ذمہ واجب الادا رہ گیا۔میں نے آپ سے طے کیا کہ فلاں وقت اس جگہ آکر میں آپ کو ادائیگی کروں گا مگر میں واپس جا کر وعدہ بھول گیا۔تین روز بعد مجھے یاد آیا تو میں مقررہ جگہ حاضر ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریم اس جگہ موجود تھے۔آپ فرمانے لگے نوجوان ! تم نے ہمیں سخت مشکل میں ڈالا۔میں تین روز سے یہاں (اس وقت) تمہارا انتظار کرتا رہا ہوں۔(ابوداؤد (61 حضرت سائب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان اور زبیر مجھے اپنے ساتھ لے کر آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری تعریف کرنے لگے۔رسول کریم نے انہیں فرمایا! آپ لوگ بے شک مجھے اس کے بارے میں زیادہ نہ بتاؤ۔یہ جاہلیت کے زمانے میں میرا ساتھی رہا ہے۔سائب کہنے لگے ہاں یا رسول اللہ ! آپ کتنے اچھے ساتھی تھے۔آپ نے فرمایا ہاں اے سائب دیکھنا جاہلیت میں تمہارے اخلاق بہت نیک تھے۔اسلام میں بھی وہ قائم رکھنا۔مثلاً مہمان نوازی یتیم کی عزت اور ہمسائے سے نیک سلوک وغیرہ پر خاص توجہ دینا۔دوسری روایت میں ہے کہ سائب آنحضرت کے ساتھ تجارت میں شریک رہے۔فتح مکہ کے دن سائب نے یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نے بھی جھگڑا نہیں کیا۔(مسند احمد (62