اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 193 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 193

اسوۃ انسان کامل 193 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت کو نہیں بیچا۔رسول کریم فرما رہے تھے میں تم سے خرید چکا ہوں۔بدو کہنے لگا اچھا آپ گواہ لے کر آئیں اس پر حضرت صل الله مخزیمہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے یہ گھوڑا حضور کو بیچا تھا۔رسول کریم ﷺ نے خزیمہ سے پوچھا تم کیوں کر گواہی دیتے ہو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی سچائی کی وجہ سے۔رسول کریم ﷺ نے ان کی گواہی کو دگنا قرار دیا۔(نسائی)55 ایک دفعہ نبی کریم نے ایک اور بدو سے درخت کے پتوں کا گٹھا خریدا جب سودا ہو چکا تو آپ نے فرمایا اب بھی تمہاری مرضی ہے۔اس نے سودا فروخت کرنے پر اصرار کیا تو آپ نے لے لیا۔(ابن ماجہ ) 56 رسول اللہ نے کسی بد و سے ایک اونٹ خریدا۔اس کے بدلے میں آپ نے مدینہ کی بہترین کھجور کا ایک وسق ( تقریباً 3 من کھجور ) دینا طے کیا۔آپ نے جب گھر جا کر معلوم کیا تو اتنی مقدار میں کھجور موجود نہیں تھی۔رسول اللہ واپس آئے اور اس بدو سے کہا اے اللہ کے بندے! ہم نے تجھ سے اونٹنی کا سو داعمدہ کھجور کے عوض کیا تھا اتنی کھجور ہمیں مل نہیں سکی۔اس پر وہ بدو کہنے لگا اور دھو کے باز ! لوگ اسے گھورنے لگے اور کہنے لگے تمہارا برا ہو۔کیا اللہ کے رسول دھو کہ کریں گے؟ نبی کریم نے فرمایا اس سے درگزر کرو کیونکہ صاحب حق کو بات کہنے کا بھی حق ہوتا ہے۔پھر حضور نے اس بد و کو دوبارہ سمجھانا چاہا کہ دراصل اتنی کھجور گھر میں ملی نہیں اس نے پھر وہی گستاخی کی۔آپ نے پھر در گزر کیا۔دو تین مرتبہ ایسا ہونے کے بعد آپ نے محسوس کیا کہ وہ آپ کی بات سمجھ نہیں پارہا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص سے فرمایا تم خولہ بنت حکیم سے جا کر کہو کہ رسول اللہ کا پیغام ہے کہ اگر تمہارے پاس اعلی قسم کی کھجور کا ایک وسق ہے تو ہمیں ادھار دے دو ہم انشاء اللہ ادا کر دیں گے ان کا جواب آیا یا رسول اللہ میرے پاس کھجور موجود ہے آپ آدمی بھیجیں جو آ کر وصول کرلے۔رسول کریم نے اس صحابی سے فرمایا کہ جاؤ اور اس بد وکو عمدہ طور پر کھجور کی دائیگی کروا دو۔وہ صحابی اس کے ساتھ گئے اور اس سے نہایت احسن رنگ میں کھجور ماپ کر دلوائی اور اس کے بعد وہ بد و رسول کریم کے پاس سے گزرا۔آپ اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے تو کہنے لگا۔اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے۔آپ نے صحابہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہیں جو مکمل اور بہتر ادائیگی کرتے ہیں۔(مسند احمد )57 حضرت عبدالرحمن بن عوف بڑے کامیاب اور ماہر تاجر تھے ان سے تجارت میں کامیابی کا راز دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں تین چیزوں کا خاص خیال رکھتا ہوں ، اول میں کبھی کسی سودے میں ہونے والا منافع چھوڑتا نہیں ہوں دوسرے کوئی جانور مجھ سے طلب نہیں کیا گیا کہ میں نے اس کا سودا کرنے میں تاخیر کی ہو۔اور تیسرے میں نے کبھی ادھار پر سودا نہیں کیا۔کہتے ہیں ایک دفعہ انہوں نے ہزار اونٹنیاں فروخت کیں اور نفع میں صرف ان کی رسیاں بیچ رہیں۔انہوں نے رسی ایک درہم میں فروخت کر کے ہزار درہم کمالئے اور ان جانوروں پر اس دن کے اخراجات سے ایک ہزار درہم بچا کر الگ منافع پایا۔(غزالی) 58 رسول اللہ کے ساتھ تجارت کرنے والوں کی شہادت الغرض ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی عملے نے صدوق الامین تاجر کے ایسے شاندار اور خوبصورت نمونے