اسوہء انسانِ کامل — Page 192
اسوۃ انسان کامل 192 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت رسول اللہ نے مال مسروقہ اور اس کی قیمت کھانے کو بھی حرام قرار دیا۔( بیشمی ) 48 تجارت میں رسول اللہ کے بہترین نمونے آنحضرت نے ایک ہی جنس کے تفاوت کے ساتھ تبادلہ یا خرید وفروخت سے منع کیا جس میں سود پایا جاتا ہے جو حرام ہے۔اس لئے فرمایا کہ دو صاع کھجور ایک صاع کے عوض اور دو صاع گندم ایک صاع کے عوض اور دو در ہم ایک درہم کے عوض جائز نہیں۔چنانچہ حضرت بلال ایک دفعہ مدینہ کی اعلی قسم کی کھجور برنی لے کر آئے نبی کریم نے اپنی زمین کی کھجور سے مختلف قسم دیکھ کر فرمایا یہ کیا؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی کھجور کے دو صاع دے کر برنی کھجور کا ایک صاع لیا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا ” اوہو۔یہ خالص سود ہے اس کے قریب بھی نہ جاؤ“ (نسائی )49 حضرت براو بن عازب بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت مدینہ تشریف لائے تو ہم چاندی کی ادھار بیچ کر لیا کرتے تھے آپ نے فرمایا کہ دست بدست سودے میں تو حرج نہیں لیکن ادھار پر دینے میں سود ہے۔(نسائی)50 رسول اللہ نے جہاں سود اور ناجائز استحصال کی ممانعت فرمائی وہاں اس کا بہتر متبادل دیتے ہوئے لین دین کے بارہ میں ایک عمدہ اصول یہ مقرر فرمایا کہ قرض ادا کرتے وقت اصل سے بڑھا کر دیا جائے۔شرط یہ ہے کہ وہ پہلے سے معین نہ ہو۔چنانچہ آپ نے کسی سے ایک چھوٹی عمر کا اونٹ لیا اور اس کی واپسی کے وقت فرمایا اسے ایک جواں سال اونٹ خرید کر دے دو۔آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کو چھوٹی عمر کے اونٹ سے بہتر عمر والا اچھا اونٹ مل رہا ہے۔فرمایا وہی اسے لے کر دے دو کیونکہ مسلمانوں میں سے سب سے بہتر وہ ہیں جو ادائیگی میں سب سے بہتر ہیں۔(نسائی)51 ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قافلہ سے غلہ خریدا۔اس کی قیمت آپ کے پاس نہ تھی۔وہ منافع پر فروخت ہوا۔منافع آپ نے بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا ” آئندہ میں کوئی ایسا سودا نہیں کروں گا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔(ابوداؤد )52 حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا اور دینار (سونے کے سکہ ) میں قیمت طے کر کے درہم (چاندی کے سکہ) میں وصول کر لیتا تھا۔رسول اللہ سے اس بارہ میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں حرج نہیں کہ تم اس دن کی قیمت درہم و دینار کی قیمت کے مطابق وصول کر لو۔“ ( نسائی (53 رسول اللہ نے مدینہ تشریف لا کر اپنی ضرورت کی خریداری خود فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آپ نے ایک یہودی سے قرض پر غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن رکھی۔اسی طرح ایک یہودی کے پاس زرہ رہن رکھنے کے عوض اپنے اہل خانہ کے لئے قرض پر جو خریدے۔(بخاری)54 رسول اللہ نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا اور اسے قیمت ادا کرنے کے لئے اپنے ساتھ آنے کے لئے فرمایا۔نبی کریم جلدی میں رقم کا انتظام کرنے جارہے تھے اور بد و آہستہ آہستہ پیچھے تھا۔اس دوران لوگ بدو سے گھوڑے کی قیمت دریافت کرتے اور بھاؤ کرتے رہے انہیں علم نہ تھا کہ نبی کریم کے ساتھ گھوڑے کا سودا ہو چکا ہے۔ایک شخص نے جب اسے کچھ زائد قیمت بتائی تو بدو نے آنحضرت کو پکار کر کہا اگر تو آپ نے گھوڑا خریدنا ہے تو لے لیں ورنہ میں اسے بیچنے لگا ہوں رسول اللہ رک گئے اور فرمایا کیا میں تم سے گھوڑ ا خرید نہیں چکا۔بدو قسم کھا کر انکار کر گیا۔اور کہنے لگا میں نے آپ