اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 182 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 182

اسوۃ انسان کامل 182 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت کوشش کرو۔اگر تم جانو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اس کے نتیجہ میں وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں اور دائمی جنتوں میں پاکیزہ گھر عطا کرے گا۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور ایک دوسری ( دنیوی ) چیز بھی جو تمہیں بہت پسند ہے یعنی اللہ کی طرف سے جلد آنے والی مدد اور فتح۔اور مومنوں کو بشارت دے دے۔(سورہ الصف آیت ۱۰ تا ۱۴) اس روحانی تجارت کے خاص پہلو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ اور اس کے حیرت انگیز نفع کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے کئی گناہ بڑھا کر واپس عطا کرے“۔(البقرہ آیت ۲۴۶) دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا کر عطا فرماتا ہے۔(البقرہ: ۲۶۲) یہ بے پناہ منافع محض کوئی نظریاتی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے روحانی تجارت کرنے والوں کا ہمیشہ یہ مشاہدہ اور تجربہ رہا ہے کہ وہ تقویٰ اور تو کل اختیار کرنے والے مومنوں کو بغیر حساب عطا فرماتا ہے۔(النور:۳۹) اسلامی تجارت کے اصول دراصل اسلامی تعلیم کے مطابق دینی و دنیوی ہر دو معاملات میں کامیابی کاراز اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہی ہے۔یعنی انسان اپنے تمام معاملات میں خوف الہی اور رضائے باری پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ اور اس کے بندوں کے حق مکمل طور پر ادا کرنے والا ہو۔اسی بناء پر اسلامی تجارت کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خرید وفروخت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔(البقرہ:۲۷۶) سود دراصل مالی استحصال کا نام ہے جس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔رسول اللہ نے فرمایا کہ سود کے ستر سے اوپر دروازے ہیں۔(ابن ماجہ ) 2 تاہم سود ایک واضح شکل مقررہ مدت کے قرض میں معین منافع ہے۔آپ نے سود خور ، سود دینے والے اس کے گواہوں اور لکھنے والوں سب پر لعنت کی اور فرمایا کہ ” جو شخص سود لیتا ہے وہ بالآخر نقصان اٹھاتا ہے۔“ (ابن ماجہ )3 حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ سود والی آیت آخر میں اتری اور رسول کریم اس کی تفاصیل بیان نہیں فرما سکے اس لئے سود اور ہر شبہ والی چیز کو بھی چھوڑ دو۔آنحضرت نے اس بارہ میں اپنے مانے والوں کو ہر قسم کے شبہات سے بھی بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حلال اور حرام واضح ہیں اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔جوشخص شبہ والی چیزوں کو بھی چھوڑ دیتا ہے اس کے لئے واضح طور پر حرام چیزوں کو ترک کر نا زیادہ آسان ہوتا ہے۔اور جو شک والی بات میں پڑ جائے اس کا واضح طور پر ممنوع چیزوں کے ارتکاب کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزیں محفوظ چرا گاہوں کی طرح ہیں۔جو چرواہا کسی چراگاہ کے قریب جانور چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ جانوروں کو اس چرا گاہ کے اندر داخل کر بیٹھے گا۔دوسری روایت میں ہے کہ جو شک والی بات میں پڑتا ہے قریب ہے کہ وہ حد عبور کرنے کی جرات کرے“۔(بخاری ، نسائی )4