اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 181 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 181

اسوۃ انسان کامل 181 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت آنحضرت ﷺ کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت تجارت انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے اور اس کی تاریخ انسان کی معاشرت کی طرح قدیم ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ جب بھی قوم نے عدل وانصاف اور امانت و دیانت کا دامن چھوڑ کر اخلاقی قدروں کو پامال کیا وہ تنزل کا شکار ہوئی۔یہی حال ملک عرب کا تھا۔جب ان کی اصلاح کے لئے بانی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ تشریف لائے۔آپ کی آمد کا بنیادی مقصد بھی اعلیٰ اخلاقی و روحانی اقدار کا قیام تھا۔چنانچہ قرآن شریف میں ماپ تول میں لوگوں کا حق مارنے اور بد دیانتی ایسی اخلاقی کمزوری کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دلائی گئی اور قوم مدین کی عبرت ناک ہلاکت کی مثال دے کر واضح فرمایا کہ اس کمزوری نے ان کے کردار کو کھوکھلا کر دیا تھا مگر وہ لوگ بظاہر اس چھوٹے سے حکم کی نافرمانی کرنے والے تھے۔بالآخر اسی وجہ سے وہ پوری قوم ہلاک کر دی گئی۔قرآن شریف کی اول مخاطب عرب قوم تھی جن کا پیشہ تجارت تھا۔وہ بھی اس برائی کا شکار ہوکر ہلاکت کے کنارے تھی جب ہمارے نبی ﷺ نے تشریف لا کر انہیں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہلاکت ہے تول میں نا انصافی کرنے والوں کے لئے۔یعنی وہ لوگ کہ جب وہ لوگوں سے تول لیتے ہیں بھر پور ( پیمانوں کے ساتھ ) لیتے ہیں۔اور جب ان کو ماپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں“۔(سورۃ المطففین 2 تا 4) حضرت ابن عباس ان آیات کا یہ پس منظر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں کے لوگ ماپ تول میں سب سے بدتر تھے۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔اسکے بعد اہل مدینہ بہترین ماپ تول کرنے لگے۔(ابن ماجہ ) اسی طرح قرآن شریف میں ارشاد ہے:۔اور وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو اور تول میں کوئی کمی نہ کرو“۔(سورۃ الرحمان : 10) روحانی تجارت ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ام دنیا کو ضلالت و گمراہی سے نکال کر رشد و ہدایت عطا کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ، اور اس کامیاب روحانی تجارت کا حق آپ نے ادا کر کے دکھا دیا، جس کے گر آپ نے براہ راست اپنے علیم و خبیر خدا سے سیکھے تھے۔اس روحانی نفع بخش تجارت کا مرکزی نقطہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ تھا، جس کے لئے آپ نے اپنے ماننے والوں کو یوں دعوت دی کہ ”اے ایمان لانے والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی خبر دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچانے والی ہو۔اور وہ یہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں